Premium Content

Add

پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تجزیہ

Print Friendly, PDF & Email

بیرسٹر رومان اعوان

سپریم کورٹ کےفیصلے کا سیاق و سباق:۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ پی ٹی آئی نے 2018 کے عام انتخابات میں بلے کے نشان پر کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، 2022 میں، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور انتخابات سے کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی کو دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کے حکم کی تعمیل کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات  کے حوالے سے سرٹیفکیٹ جمع کروایا۔ تاہم ان انتخابات کے نتائج پر اکبر ایس بابر اور کئی رہنماؤں نے اعتراض کیا اور پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات پر الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی۔ ان رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ اُنہیں انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا اور انہیں انتخابات کے مقام کا بھی نہیں بتایا گیا۔ اسی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا۔

پی ٹی آئی نے پشاور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا، عدالت نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور قانون کے مطابق نہیں کرائے گئے تھے۔ اس نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے۔

اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو 2024 کے عام انتخابات میں بلے کے نشان پر حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ تاہم، پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید:۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر کئی حلقوں سے تنقید کی گئی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیصلہ سیاسی ہے اور اس کا مقصد پی ٹی آئی کو نقصان پہنچانا ہے۔ دوسروں کا خیال ہے کہ فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ اس میں قانونی بنیادیں نہیں ہیں۔

فیصلے میں کئی نقائص بھی پائے گئے ہیں۔ فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کس طرح غیر قانونی تھے۔ دوسرا  یہ کہ فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار کیوں ہے۔

یہاں کچھ مخصوص تنقیدیں ہیں جو سپریم کورٹ کے فیصلے پر کی گئی ہیں:۔

سیاسی تنقید: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیصلہ سیاسی ہے اور اس کا مقصد پی ٹی آئی کو نقصان پہنچانا ہے۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انتخابات سر پر ہیں اور پی ٹی آئی کو انتخابات سے دور رکھنے کی سازش کی گئی ہے۔

Don’t forget to Subscribe our Youtube Channel & Press Bell Icon.

قانونی تنقید: دوسروں کا خیال ہے کہ فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ اس میں قانونی بنیادیں نہیں ہیں۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کس طرح غیر قانونی تھے۔ اس کے علاوہ، وہ اس بات پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کے پاس بلے کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار کیوں ہے۔

عملی تنقید: کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فیصلہ عملی طور پر ناقابل عمل ہے۔ وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بلے کے نشان سے محروم کرنا ایک بڑے سیاسی پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔یہ تنقیدیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی قانونی حیثیت اور اس کے سیاسی اثرات پر سوال اٹھاتی ہیں۔

پی ٹی آئی کے لیے چیلنجز:۔

پی ٹی آئی کے لیے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا نقصان یہ ہے کہ اس سے پارٹی کو اپنے سب سے زیادہ پہچان والے انتخابی نشان سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یہ نشان پارٹی کے لیے ایک بہت اہم اثاثہ تھا، اور اس نے پارٹی کو 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔

اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو 2024 کے عام انتخابات میں مزید مشکل درپیش ہو سکتی ہے۔ بلے کے نشان کی عدم موجودگی میں، پارٹی کو ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔

پی ٹی آئی کے لیے ممکنہ آئندہ کا لائحہ عمل:۔

پی ٹی آئی کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لے اور اپنے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک مضبوط انتخابی مہم چلائے۔ پ

یہاں کچھ مخصوص اقدامات ہیں جو پی ٹی آئی کر سکتی ہے:۔

ایک نئے انتخابی نشان کو فروغ دینے کے لیے مہم چلائیں۔

اپنے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ایک مضبوط انتخابی پیغام تیار کریں۔

اپنی انتخابی مہم کو منظم اور موثر انداز میں چلائیں۔

اگر پی ٹی آئی ان اقدامات کو کرنے میں کامیاب ہوتی ہے، تو وہ آزاد حیثیت میں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اچھے حالات میں ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ ایک مشکل کام ہوگا، اور پارٹی کو اپنے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1