Premium Content

Add

روم میٹ، ڈیٹ، پیٹ، لیٹ اور سلیٹ 

Print Friendly, PDF & Email

  

        تحریر:    ڈاکٹر سیف اللہ بھٹی

مصنف نشترمیڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد صوبائی انتظامیہ کاحصہ ہیں اور آج کل منیجنگ ڈائریکٹر، چولستان ترقیاتی ادارہ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

کالج کے دنوں کی بات ہے کہ میرے ایک روم میٹ چھٹیوں میں ”روم“ چلے گے۔ وہ گئے تو دوماہ کیلئے تھے مگر چند دنوں میں ہی واپس آگئے۔ آتے ہی پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ہوسٹل کی چھت پر چارپائی بچھوائی۔ پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ لیٹ گئے۔ چہرے پر مسرت کے آثارنمایاں تھے۔ کہنے لگے ”بھرا ہو پیٹ، بندہ جائے لیٹ، تیرے جیسا ہو روم میٹ، مزے کی ہے ڈیٹ، ”روم“ میں کرتا رہا میں اس وقت کا ویٹ، تو بھی بھر لے پیٹ، بچھا چارپائی اور لیٹ،لیٹ“۔ کافی دیر کے بعدانتہائی مدبرانہ لہجے میں کہنے لگے ”بھرے پیٹ لیٹنے کا سواد ہماری ہی قسمت میں ہے۔ یورپین تو بہت بدقسمت ہیں۔ نہ پیٹ بھر کر کھا سکتے ہیں اور نہ جی بھر کرلیٹ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ کچہری کی تاریخ کو لے کر پریشان رہتے ہیں اور وہاں انہیں بھی ”ڈیٹ“ کی پڑی رہتی ہے“۔ مزید فرمانے لگے ”یہ موج توہمارے ہی ہاں ہے کہ بندہ رج کے کھائے، خوشی خوشی لیٹ جائے اور جی بھر کے بھلے دن رات سوتا رہے“۔ لگتا تھا کہ ”روم“ میں انہیں اپنا روم میٹ بہت یاد آتا رہا ہے۔ انتہائی شفقت سے فرمانے لگے ”روم میٹ تو بس تمہارے جیسا ہی ہونا چاہیے“۔ میں نے کہا”بہت مہربانی مگر آپ جو میری اتنی تعریف فرما رہے ہیں ذرا  اس کی وجہ پر بھی روشنی ڈالیں“۔ کہنے لگے ”یار روشنی کیا ڈالنی ہے۔ تم ساتھ ہوتے ہو تو بڑی تسلی رہتی ہے۔ دل کہتا ہے کہ اگرتمہاری شکل وصورت اور عقل کا بندہ میڈیکل کالج میں تعلیم حاصل کرسکتا ہے تو میں تو دنیا میں انقلاب لاسکتاہوں“۔

Read More: https://republicpolicy.com/kyun-na-khali-zahen-mara-jaye/

          وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جو اچھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ پیٹ بھر کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ جی بھر کر لیٹ سکتے ہیں۔ ایک صاحب کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ والدین نے دن رات مشقت کرکے اُن کو ڈاکٹر بنایا۔ بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ نوکری نہیں کرنا چاہتے تھے۔ مزید تعلیم حاصل کرناچاہتے تھے۔ والد کی خواہش تھی کہ نوکری کریں تاکہ تنخواہ گھر آئے اورفرائض کی ادائیگی میں آسانی ہو۔ وہ ابھی ملازمت کرنے کاقطعاً کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اُن کا ارادہ دیکھتے ہوئے ایک دن اُن کے والد نے بہت دُکھی لہجے میں کہا ”تمہیں سلیٹ کی، ہمیں پلیٹ کی“۔

           کئی لوگ عمر بھر اپنے بہن، بھائیوں کی پلیٹ بھری رکھنے کیلئے سلیٹ سے محروم رہتے ہیں۔بہت سے لوگ عمر بھر محنت کرکے پائی پائی جوڑتے ہیں مگر ہسپتال یا کچہری کا ایک مسئلہ اُن کو پھر خالی سلیٹ کی مانند کردیتاہے۔ایک صاحب چھ سال سے ملازمت کررہے تھے۔ اُن کی بیوی کو کینسر ہوگیا۔ بیوی کا علاج بہت مشکل اور بہت مہنگا تھا۔ نجی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر صاحب نے اپنی ایک مہینے کی فیس بتائی تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کہنے لگے ”ڈاکٹر صاحب!  میں نے چھ سال میں اتنی تنخواہ نہیں پائی جتنی آپ نے ایک مہینے کی اپنی فیس بتائی“۔

          ایک صاحب انتہائی شریف انسان تھے۔ اہل علاقہ میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ لوگ اُن کی رائے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ایک معمولی بات پر مخالفین نے انہیں کرایے کے قاتلوں کے ہاتھوں قتل کروادیا۔ انہوں نے پسماندگان میں دوبیٹے چھوڑے۔ دونوں بہت سلجھے ہوئے اورباکردار نوجوان تھے۔ ایک بیٹے کا مزاج فقیرانہ تھا۔ اُن کے قتل کے بعد اولاد کو مالی طور پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ والد کی آخری رسومات پر بھی کافی خرچہ ہوا۔ پیٹ کے لالے پڑ گئے مگر رسومات کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کی جاسکتی تھی۔ ایک دن چھوٹا بیٹا انتہائی پریشانی کے عالم میں کہنے لگا ”کبھی کبھی لگتا ہے کہ اتنے پیسے تو ہمارے دشمنوں نے والد صاحب کے قاتل کو نہیں دیے ہوں گے جتنے ہمیں رسومات پر لگانے پڑے ہیں اور ابھی مزید پتہ نہیں کیا کیا باقی ہے۔

Read More: https://republicpolicy.com/insani-haqooq-ka-almi-din-aur-pakistan-ma-insani/

          تقدیر بھی بہت حیران کن چیز ہے۔ ایک شاعر نے بالکل بجا کہاتھا ”وہ لوگ جنہیں کبھی کسی کی نظر چھو بھی نہیں سکتی بعض اوقات وہی رونق بازاربن جاتے ہیں اور اُن کے غلام بھی اُن کے خریداربن جاتے ہیں“۔ خزانوں کے مالک بعض اوقات سرعام رُل رہے ہوتے ہیں اور کسی کو پرواہ بھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ بُرے وقت سے ہرکسی کو محفوظ رکھے۔ ہمارا دین پیٹ بھر کرکھانے سے منع کرتا ہے۔ خالی پیٹ والے کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا ہے۔ ہمارا دین احساس کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرﷺ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کیلئے سب سے بہتر ہو۔ اگر پیٹ کی بھوک کی فکر کے باعث کوئی بچہ اپنی سلیٹ سے محروم رہ جائے تو پورا معاشرہ اس کا ذمہ دار ہے۔ غزوہ بدر کے قیدیوں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ اپنے فدیے کے طور پر لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھائیں۔ علم حاصل کرنا اور غریب لوگوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کرنا ہمارے اسلاف کی روایت ہے۔ قرون اولیٰ کے مسلمان اپنی تعلیمی سرگرمیوں کیلئے آج بھی ممتاز ہیں۔ دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنانے کااعزاز بھی ایک مسلم خاتون محترمہ فاطمہ بنت محمد الفھریۃ کوحاصل ہے یہ یونیورسٹی مراکش میں قائم کی گئی تھی۔ مدرسہ نظامیہ، جامعہ قرطبہ، مدرسہ امام ابوحنیفہ اور جامعہ ازہربھی مسلمانوں کے بنائے گئے تعلیمی اداروں کی درخشاں مثالیں ہیں۔ برصغیر کے مسلمان بھی اس ضمن میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے پوری دنیا واقف ہے۔ مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں ہمیشہ ایسے تعلیمی ادارے قائم کرتی رہی ہیں جن پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔ ہمارے امراء ہمیشہ ایسے ادارے بناتے رہے ہیں جہاں غرباء کے بچے تعلیم حاصل کرسکیں۔ علم حاصل کرنا فرض ہے تو کسی کو حصولِ علم میں مدد دینا ایک ایسا قرض ہے جو ہم سب کو ادا کرنا چاہیے۔ہمارے محبوب ترین پیغمبرﷺ نے فرمایا ہے کہ ”بلاشبہ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں“۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ”جوشخص علم کی طلب میں نکلاوہ گویا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والاہے“۔ ایک اور روایت میں آتا ہے ”اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور زمین اور آسمان کی ہر شئے حتی کہ بلوں کی چیونٹیاں اور سمندروں کی مچھلیاں بھی علم سکھانے والوں کیلئے دعاخیر کرتی ہیں“۔ آنے والی نسلوں کی تعلیم و تربیت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس میں کوتاہی کی سزا بھی اجتماعی طور پر سب کو بھگتنا پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برا ہونے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

AD-1