ڈیجیٹل دور میں بچوں کا تحفظ صرف پابندیوں سے ممکن نہیں

[post-views]
[post-views]

دنیا بھر میں بچوں کے سماجی ذرائع ابلاغ کے استعمال پر بحث ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب سوال یہ نہیں رہا کہ سماجی ذرائع ابلاغ بچوں کی ذہنی صحت، جذباتی نشوونما اور سماجی رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست بچوں کے تحفظ کے لیے قانون کے ذریعے کہاں تک مداخلت کرے۔ یورپی اتحاد نے بھی اب اسی سمت قدم بڑھاتے ہوئے بچوں کے لیے دنیا کے سخت ترین ضابطوں میں سے ایک تجویز کیا ہے۔ اگرچہ صرف قانون سازی ہر مسئلے کا حل نہیں، لیکن یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بچپن کی نوعیت بدل چکی ہے اور اس کے مطابق نئی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

یورپی اتحاد کے ماہرین نے سفارش کی ہے کہ تیرہ سال سے کم عمر بچوں کو سماجی ذرائع ابلاغ تک آزادانہ رسائی نہ دی جائے۔ اگر کسی صورت میں رسائی دی بھی جائے تو وہ والدین یا کسی بالغ فرد کی نگرانی میں ہو۔ تیرہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے نوجوانوں کے لیے مرحلہ وار رسائی کا نظام تجویز کیا گیا ہے تاکہ عمر، ذہنی پختگی اور ذمہ داری کے مطابق انہیں سہولت دی جا سکے۔ آئندہ مہینوں میں اس حوالے سے قانون سازی متوقع ہے اور امکان ہے کہ یہ بچوں کے تحفظ کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔

اس تجویز کے پیچھے مضبوط دلائل موجود ہیں۔ یورپ میں بچے روزانہ اوسطاً چار سے چھ گھنٹے سماجی ذرائع ابلاغ پر گزارتے ہیں۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد آن لائن ہراسانی، ذہنی دباؤ، نفسیاتی مسائل، گمراہ کن معلومات، نقصان دہ مواد اور غیر حقیقی طرزِ زندگی کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ یہ ذرائع تعلیم، معلومات، تخلیقی صلاحیتوں اور رابطے کے نئے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، اسپین، یونان اور کئی دوسرے ممالک بھی اسی سمت میں قانون سازی کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سماجی ذرائع ابلاغ پر پابندی عائد کرنے والا پہلا ملک بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ برطانیہ نے بھی اسی نوعیت کے قوانین متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جبکہ کئی یورپی ممالک اپنی الگ حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات اس بات کا اظہار ہیں کہ بچوں کی آن لائن حفاظت اب صرف خاندانی معاملہ نہیں بلکہ قومی پالیسی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

لیکن قانون بنانا نسبتاً آسان اور اس پر عمل درآمد انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ آسٹریلیا کی مثال اس حقیقت کو واضح کرتی ہے۔ پابندی کے باوجود بیشتر بچے اب بھی مختلف طریقوں سے سماجی ذرائع ابلاغ استعمال کر رہے ہیں کیونکہ عمر کی تصدیق کا موجودہ نظام آسانی سے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ صرف غلط تاریخِ پیدائش درج کر کے نیا کھاتہ کھول لینا کئی پلیٹ فارموں پر ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاغذ پر سخت نظر آنے والے قوانین عملی طور پر اپنی مکمل افادیت ثابت نہیں کر پا رہے۔

یورپی اتحاد کے لیے بھی یہی سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ یورپ میں شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایسے میں حکومتوں کو ایسا نظام تیار کرنا ہوگا جو بچوں کی عمر کی درست تصدیق بھی کرے اور ان کی ذاتی معلومات بھی محفوظ رکھے۔ اگر شناختی دستاویزات یا حیاتیاتی شناخت لازمی قرار دی جاتی ہے تو اس سے رازداری کے نئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے مؤثر قانون سازی کے ساتھ متوازن اور محفوظ نفاذ بھی ضروری ہوگا۔

صرف حکومتیں ہی نہیں بلکہ سماجی ذرائع ابلاغ چلانے والی کمپنیاں بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتیں۔ ان کے خودکار نظام اکثر صارفین کی فلاح کے بجائے زیادہ وقت تک انہیں اسکرین کے سامنے رکھنے پر توجہ دیتے ہیں۔ بچوں کو مسلسل ایسا مواد دکھایا جاتا ہے جو انہیں زیادہ دیر تک مصروف رکھے، خواہ وہ ان کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے محفوظ ترتیبات، مؤثر نگرانی، نقصان دہ مواد کی روک تھام اور بچوں کے لیے الگ حفاظتی نظام ہر پلیٹ فارم کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔

پاکستان میں بھی صورتحال کم تشویشناک نہیں۔ کروڑوں بچے روزانہ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد والدین کی مؤثر نگرانی سے محروم ہے۔ سب سے زیادہ وقت ویڈیو دیکھنے والے پلیٹ فارم پر صرف کیا جاتا ہے، اس کے بعد پیغام رسانی اور تصاویر شیئر کرنے والی خدمات آتی ہیں۔ جیسے جیسے اسمارٹ فون عام ہو رہے ہیں، بچوں کی ڈیجیٹل دنیا تک رسائی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ آن لائن جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں کو ہراساں کرنا، دھوکا دہی، غیر اخلاقی مواد تک رسائی اور استحصال جیسے خطرات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ اگرچہ قانون سازی پر بحث جاری ہے، لیکن نفاذ کے مسائل اور تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے ابھی تک جامع پالیسی سامنے نہیں آ سکی۔

حقیقت یہ ہے کہ صرف قانون بچوں کو مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ ٹیکنالوجی قوانین سے کہیں زیادہ تیزی سے بدلتی ہے۔ نئے ذرائع، نئی ایپلی کیشنز اور متبادل راستے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ اسی لیے سب سے مؤثر کردار والدین کا ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کے لیے اسکرین کے استعمال کے واضح اصول بنائیں، ان سے مسلسل گفتگو کریں، آن لائن خطرات سے آگاہ کریں اور مطالعہ، کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور خاندانی میل جول کی حوصلہ افزائی کریں۔

اسکول بھی اس ذمہ داری میں برابر کے شریک ہیں۔ ڈیجیٹل خواندگی کو نصاب کا مستقل حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ بچے غلط معلومات کی پہچان، ذاتی معلومات کے تحفظ، آن لائن مجرموں سے بچاؤ اور ذمہ دارانہ انٹرنیٹ استعمال کے اصول سیکھ سکیں۔

آخرکار بچوں کی آن لائن حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قانون، والدین، اساتذہ، تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے الگ کرنا نہیں بلکہ انہیں اس قابل بنانا ہے کہ وہ اس دنیا میں محفوظ، باشعور اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ یہی مستقبل کے ایک صحت مند اور محفوظ ڈیجیٹل معاشرے کی بنیاد ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]