ترکمانستان کے ساتھ تعطل کا شکار گیس پائپ لائن معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کا حالیہ اقدام توانائی کے تحفظ اور تنوع کے حوالے سے بہت سی امیدیں پیدا کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ اس منصوبے کو فعال ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے۔
Don’t forget to Subscribe our channel & Press Bell Icon.
مجوزہ 1,800 کلومیٹر طویل پائپ لائن سے ہر سال 33 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس ترکمانستان سے خریدی جائے گی۔ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا طویل گیس فیلڈکا معاہدہ ہے۔یہ پائپ لائن افغانستان کے شہروں ہرات اور قندھار سے اور پاکستان میں کوئٹہ اور ملتان سے گزرے گی۔ اس کے مکمل ہونے تک اس کی لاگت 7.5 ڈالر اور 10ڈالر بلین کے درمیان متوقع ہے۔
یہ قدرتی گیس پائپ لائن معاہدہ معاوضہ کے اعتبارسے کم قیمت ہے اور گیس کی فراہمی کے لیے ایک زیادہ قابل اعتماد طریقہ ہےجو کہ مالی بحران کے شکار پاکستان کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔ مزید برآں، گھریلو گیس کی سپلائی میں مسلسل کمی کے باعث، پاکستان قطر سے بھیجی جانے والی گیس پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے، اور یہ انحصار بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے آنے والے مشترکہ منصوبوں کی بدولت بڑھ رہا ہے ۔ لہذا، اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو اس سے اسلام آباد کو اپنے توانائی کی فراہمی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں بھی مدد ملے گی۔تاہم، ہمیں آگے بڑھنے سے پہلے احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ معاہدے پر 20 سال پہلے دستخط کیے گئے تھے اور پائپ لائن کی تکمیل کی کوئی ٹھوس تاریخ نہیں ہے۔









