آئین کی پیروی عدلیہ پر بیرونی دباؤ نہیں

[post-views]
[post-views]

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ ججوں کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے متحد ہے۔ اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتی ضابطۂ اخلاق میں تبدیلیاں عدلیہ کی آزادی کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔ بلاشبہ عدلیہ کی آزادی آئینی جمہوریت کے لیے ناگزیر ہے، تاہم آئینی نگرانی اور ادارہ جاتی توازن کو بیرونی دباؤ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کا آئین ایک پارلیمانی جمہوری نظام قائم کرتا ہے جس میں ریاستی ادارے متعین آئینی حدود کے اندر کام کرتے ہیں۔ پارلیمان کو ریاستی امور پر اہم نگرانی اور احتسابی اختیارات حاصل ہیں۔ آرٹیکل 66 ارکانِ پارلیمان کی آزادیٔ اظہار اور پارلیمانی استحقاق کا تحفظ کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 69 محض طریقۂ کار کی بے قاعدگی کی بنیاد پر پارلیمانی کارروائی میں عدالتی مداخلت سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ آئینی تحفظات پارلیمان کے آئینی دائرۂ اختیار اور ادارہ جاتی خودمختاری کو یقینی بناتے ہیں۔

آئین انتظامیہ کو بھی سیاسی طور پر پارلیمان کے سامنے جواب دہ بناتا ہے۔ وزیراعظم اسی وقت تک اپنے منصب پر برقرار رہتا ہے جب تک اسے قومی اسمبلی کا اعتماد حاصل ہو۔ اس طرح پارلیمانی جواب دہی انتظامی اختیار کے مرکز میں رہتی ہے اور سیاسی اقتدار منتخب نمائندگی سے منسلک رہتا ہے۔

پارلیمان اور عدلیہ کے تعلق کو بھی ادارہ جاتی دباؤ کے بجائے آئین کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ عدالتی تقرریوں کے عمل کے بعض پہلوؤں میں پارلیمانی شمولیت کا کردار آئین نے خود متعین کیا ہے۔ اس لیے آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو بذاتِ خود عدلیہ کی آزادی میں مداخلت قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عدلیہ کی آزادی کو آئینی نگرانی، ادارہ جاتی احتساب اور پارلیمان کے آئینی دائرۂ اختیار کے ساتھ قائم رہنا چاہیے۔ آئین کی پیروی بیرونی دباؤ نہیں، بلکہ یہی اداروں کے درمیان وہ آئینی توازن ہے جو عدالتی آزادی، پارلیمانی اختیار اور حقیقی پارلیمانی جمہوریت کا تحفظ کرتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]