پاکستان کی سول سروس کا حجم کم کرنا: ایک آئینی نقطۂ نظر

[post-views]
[post-views]

سول سروس اصلاحات سے متعلق اپنی تازہ پینل گفتگو میں ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک نے پاکستان کی سول سروس کی تشکیلِ نو کے لیے پانچ بنیادی اصول تجویز کیے ہیں۔ اس مجوزہ اصلاحاتی خاکے کا ایک نہایت اہم جزو سول سروس کے حجم کو کم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے آئینی اور وفاقی ڈھانچے سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

یہ تجویز اس اصول پر مبنی ہے کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان آئینی طور پر تقسیم شدہ ذمہ داریوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ پروفیسر ندیم الحق نے موجودہ حکومتی ڈھانچے کو ’’فربہ‘‘ قرار دیا ہے، جو انتظامی نظام کے حجم اور دائرۂ کار پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

ریپبلک پالیسی کے مجوزہ ماڈل کے تحت وفاقی سول سروس کی تشکیل صرف ان ذمہ داریوں کے مطابق ہونی چاہیے جو آئینی طور پر وفاق کو تفویض کی گئی ہیں۔ وفاقی قانون ساز فہرست، حصہ اول میں 59 اندراجات شامل ہیں، لہٰذا وفاقی انتظامی ڈھانچے کو انہی وفاقی ذمہ داریوں کے مطابق معقول اور محدود کیا جانا چاہیے۔ اس تجویز کے مطابق ان امور کو چلانے کے لیے پانچ وفاقی وزارتیں کافی ہوں گی۔

یہی آئینی اصول حکومت کی دیگر سطحوں پر بھی نافذ ہونا چاہیے۔ صوبائی حکومتوں کی اپنی الگ صوبائی سول سروسز ہونی چاہییں، جبکہ مقامی حکومتوں کے لیے بھی ان کی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں کے مطابق علیحدہ مقامی حکومتی سروسز قائم ہونی چاہییں۔

اسی اصول کے تحت وفاقی حکومت کو ان شعبوں میں غیر ضروری طور پر وسیع انتظامی موجودگی برقرار نہیں رکھنی چاہیے جو صوبائی یا مقامی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔

اس اصلاحاتی تصور کا بنیادی اصول واضح ہے: سول سروس کا حجم اور ساخت حکومتی اختیارات کی آئینی تقسیم کے مطابق ہونی چاہیے، نہ کہ ایک غیر ضروری طور پر وسیع اور مرکزیت پر مبنی انتظامی ڈھانچے کے تحت۔

ریپبلک پالیسی کی سول سروس اصلاحات سے متعلق مکمل تجاویز پڑھنے کے لیے ذیل میں دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]