پاکستان چین پاکستان اقتصادی راہداری کو محض بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے آگے بڑھا کر سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور علاقائی روابط کے ایک وسیع پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہانگ کانگ میں گیارہویں بیلٹ اینڈ روڈ سربراہی اجلاس سے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کا پیغام بھی اسی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے: پاکستان چاہتا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے شراکت دار سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
اس حوالے سے پاکستان کے پاس نمایاں مواقع موجود ہیں۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور بحیرۂ عرب کے درمیان پاکستان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ سڑک اور ریل کے روابط، وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ راہداری تجارت کے انتظامات اور گرم پانیوں کی بندرگاہوں تک رسائی پاکستان کو مغربی، وسطی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
لیکن صرف جغرافیائی محلِ وقوع کسی ملک کو معاشی مرکز نہیں بناتا۔ پاکستان طویل عرصے سے اپنے تزویراتی محلِ وقوع کی اہمیت بیان کرتا آیا ہے؛ اصل چیلنج اس جغرافیائی اہمیت کو پیداواری معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنا ہے۔
اسی لیے سی پیک کا دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے سے مختلف ہونا چاہیے۔ سڑکیں، بندرگاہیں، توانائی کے منصوبے اور دیگر بنیادی ڈھانچا روابط بہتر بنانے اور اہم معاشی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ضروری تھے۔ تاہم اب اگلے مرحلے میں اسی بنیادی ڈھانچے کو برآمدات، صنعتی پیداوار، تکنیکی ترقی اور روزگار پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
جام کمال نے درست طور پر اس جانب توجہ دلائی کہ علاقائی تعاون اب محض نقل و حمل کی راہداریوں سے آگے بڑھ کر مربوط پیداواری اور تجارتی زنجیروں کی طرف جارہا ہے۔ پاکستان کو صرف ایک ایسے راستے تک محدود نہیں رہنا چاہیے جہاں سے دوسرے ممالک کا سامان گزرتا رہے، بلکہ اسے ابھرتے ہوئے علاقائی پیداواری نظام کا فعال حصہ بننا ہوگا۔ ایک کامیاب اقتصادی راہداری وہی ہوگی جو مصنوعات تیار کرے، صنعتوں کو راغب کرے، تجارت کو فروغ دے اور پاکستانی کاروباروں کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑے۔
پاکستان کے معدنی وسائل بھی سرمایہ کاری کا ایک بڑا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تانبا، کوئلہ اور دیگر صنعتی اور اہم معدنیات بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرسکتی ہیں۔ تاہم معدنی دولت خودبخود قومی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہوتی۔ سرمایہ کاروں کو شفاف قوانین، قابلِ پیش گوئی ضابطہ کاری، معاہدوں کا تحفظ اور پالیسیوں میں طویل مدتی استحکام درکار ہوتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری صرف خام معدنیات نکالنے اور برآمد کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ ملکی سطح پر قدر میں اضافے، روزگار اور صنعتی ترقی کا ذریعہ بھی بنے۔
یہی اصول مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
پاکستان سی پیک اور وسیع تر بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے سرمایہ کاروں کو راغب کرسکتا ہے، لیکن پائیدار سرمایہ کاری کا انحصار بالآخر ملک میں حکمرانی کے معیار پر ہوگا۔ معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر ہوتی قرض کی درجہ بندی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا سکتی ہے، لیکن کاروباری ادارے ٹیکس کے نظام، توانائی کی قیمتوں، ضابطوں کے تسلسل، معاہدوں پر عمل درآمد، بنیادی ڈھانچے اور سرمائے و اشیا کی آسان نقل و حرکت کو بھی دیکھتے ہیں۔
اس لیے سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ پاکستان کو سنجیدہ ضابطہ جاتی اور ادارہ جاتی اصلاحات بھی کرنا ہوں گی۔
سبز اور ڈیجیٹل ترقی کو بھی سی پیک کے اگلے مرحلے کا بنیادی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، قابلِ تجدید توانائی، جدید ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچا اور ماحول دوست صنعت اب ثانوی ترقیاتی اہداف نہیں رہے۔ یہ عالمی سرمایہ کاری اور معاشی مسابقت کے اہم عناصر بن چکے ہیں۔ ہانگ کانگ اور بیلٹ اینڈ روڈ کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون پاکستان کو ان شعبوں میں سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
پاکستان کی بڑی آبادی اور بیرونِ ملک مقیم افرادی قوت بھی اہم اثاثے ہیں۔ تقریباً 40 ارب ڈالر سالانہ ترسیلاتِ زر بیرونِ ملک پاکستانیوں کی معاشی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم ان کی خدمات کو صرف ترسیلاتِ زر تک محدود کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستانی تارکینِ وطن سرمایہ کاری، پیشہ ورانہ مہارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بین الاقوامی کاروباری روابط کا بھی اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس لیے وسیع تر مقصد واضح ہونا چاہیے: سی پیک کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے مجموعے سے آگے بڑھا کر معاشی تبدیلی کے ایک مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کیا جائے۔
اس کے لیے سڑکوں سے تجارت، روابط سے پیداوار، معدنیات نکالنے سے قدر میں اضافے اور محض سرمایہ کاری راغب کرنے سے ایک ایسے ماحول کی تشکیل کی طرف بڑھنا ہوگا جہاں سرمایہ کاری کامیاب اور پائیدار ثابت ہوسکے۔
بیلٹ اینڈ روڈ کے شراکت داروں کو جام کمال کی سرمایہ کاری کی دعوت بروقت ہے۔ لیکن بین الاقوامی اجلاس اور سرمایہ کاری کی پیشکشیں صرف دروازے کھول سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو ان دروازوں سے اندر آنے پر آمادہ کرنے کے لیے ضروری حالات پاکستان کو خود پیدا کرنا ہوں گے۔
اگر سی پیک کا دوسرا مرحلہ علاقائی روابط کو صنعتی جدت، ضابطہ جاتی اصلاحات، تکنیکی ترقی اور پائیدار سرمایہ کاری کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پاکستان بڑے خطوں کے درمیان ایک اہم معاشی پل کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرسکتا ہے۔
سی پیک کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان نے کتنا بنیادی ڈھانچا تعمیر کیا، بلکہ یہ ہوگا کہ اس بنیادی ڈھانچے نے کتنی سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور پائیدار معاشی ترقی پیدا کی۔









