پاکستان کے انتظامی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ہمارا انتظامی ڈھانچہ آج بھی سیکریٹریٹ نظام پر چل رہا ہے، جہاں اختیارات اور کام کا انحصار فائل پر ہے۔ فائل آگے بڑھتی ہے تو کام ہوتا ہے، ورنہ معاملات رکے رہتے ہیں۔
آج کی جدید دنیا میں ادارے ترقی کر چکے ہیں اور مینجمنٹ ایک مکمل سائنس کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے دور میں پھیتے اور دھاگے سے بندھی فائلوں پر انحصار یقیناً گورننس کے کئی چیلنجز کو جنم دیتا ہے۔
ریپبلک پالیسی نے سیکریٹریٹ ایڈمنسٹریشن سے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈمنسٹریشن اور فنکشنل ایڈمنسٹریشن کی طرف منتقلی پر تفصیلی تحقیق کی ہے۔ ہماری کتاب Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan میں روایتی سیکریٹریٹ نظام کے متبادل کے طور پر فنکشنل ایڈمنسٹریشن اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
اس میں لیٹرل انٹری، مسابقتی تنخواہوں اور سرکاری مراعات کو مالی شکل دینے جیسے اہم انتظامی تصورات پر بھی بات کی گئی ہے۔
انہی موضوعات کو سمجھنے کے لیے ریپبلک پالیسی کا یہ پوڈکاسٹ سنیے اور ہماری کتاب Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan پڑھیے، جو مارکیٹ میں دستیاب ہے۔









