مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست اور پاکستان کے لیے ابھرتے ہوئے خدشات

[post-views]
[post-views]

مسعود خالد خان

کسی بھی حکومت کا زوال صرف ایک داخلی سیاسی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی نظام تک پھیل جاتے ہیں۔ اگر ایران جیسے اہم اور اسٹریٹجک اثر رکھنے والے ملک میں سیاسی یا نظامی تبدیلی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے سیاسی توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر علاقائی طاقت کو اپنی حکمت عملی نئے حالات کے مطابق ترتیب دینا پڑتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ اس خطے کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور اس کے اسٹریٹجک فیصلے ہمیشہ علاقائی سیاست سے متاثر ہوتے ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران خطے میں ایک ایسے ریاستی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جو اسرائیلی اثر و رسوخ کے مقابل سیاسی اور عسکری توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران کی پالیسی صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی اسٹریٹجک نوعیت کی بھی رہی ہے۔ ایران کی موجودگی نے اسرائیل کے لیے علاقائی ماحول کو پیچیدہ بنایا، کیونکہ اس نے لبنان، شام، عراق اور یمن میں مختلف سیاسی اور عسکری گروہوں کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ اس صورتحال نے طاقت کے توازن کو کسی حد تک برقرار رکھا اور کسی ایک فریق کو مکمل برتری حاصل کرنے سے روکا۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ تبدیلی کوئی اچانک عمل نہیں بلکہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری سیاسی عمل کا نتیجہ ہے۔ دو ہزار تین میں عراق کی ریاستی طاقت کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد خطے کا اہم عسکری توازن ختم ہو گیا۔ شام طویل خانہ جنگی کے بعد کمزور ریاستی ڈھانچے میں تبدیل ہو گیا۔ لیبیا مختلف مسلح گروہوں میں تقسیم ہو کر قومی وحدت برقرار نہ رکھ سکا جبکہ یمن انسانی بحران اور سیاسی تقسیم کا شکار رہا۔ خلیجی ممالک بھی رفتہ رفتہ اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو زیادہ اہمیت دینے لگے۔

اگر ایران سیاسی یا نظامی دباؤ کے نتیجے میں مغرب کی طرف جھکاؤ اختیار کرتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن مزید تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اسرائیل کے لیے عملی اور اسٹریٹجک آزادی بڑھ سکتی ہے۔ اسرائیل پہلے ہی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور جدید انٹیلی جنس اور سائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا چکا ہے۔ اگر علاقائی مخالفت کم ہو جائے تو اس کی اسٹریٹجک کارروائیوں پر کم رکاوٹیں رہ جائیں گی۔

پاکستان اس تبدیلی سے براہ راست متاثر ہونے والا ملک بن سکتا ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد مسلم اکثریتی جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے اور اس کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر اسرائیل کے بارے میں محتاط اور اصولی مؤقف پر مبنی رہی ہے۔ اگر ایران خطے میں مزاحمتی سیاست سے دور ہو جاتا ہے تو پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جو نظریاتی اور اسٹریٹجک اعتبار سے اسرائیل سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسی پوزیشن کبھی غیر جانبدار نہیں رہتی بلکہ اس پر مختلف طاقتیں اپنی حکمت عملی مرتب کرتی ہیں۔

پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ فوری فوجی تصادم سے نہیں بلکہ اسٹریٹجک دباؤ کے بتدریج بڑھنے سے ہے۔ پاکستان پہلے ہی مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور اندرونی سطح پر مختلف سماجی اور سیاسی پیچیدگیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر علاقائی طاقتیں اپنے اتحاد سخت کرتی ہیں تو پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان نے سفارتی لچک اور نظریاتی موقف کے امتزاج سے اپنی خارجہ پالیسی چلائی، مگر بدلتی ہوئی علاقائی حقیقتیں اس حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔

بھارت اور اسرائیل کے تعلقات بھی پاکستان کے لیے اہم اسٹریٹجک چیلنج ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھتا جا رہا ہے۔ مستقبل میں کسی بھی بھارت پاکستان کشیدگی کی صورت میں اسرائیلی سفارتی یا تکنیکی حمایت بھارت کے حق میں جا سکتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے نئی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔

اس خطے میں خلیجی ممالک کی پالیسی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اقتصادی مفادات، سلامتی کے خدشات اور عالمی طاقتوں پر انحصار نے خلیجی ممالک کو اپنی خارجہ حکمت عملی میں زیادہ محتاط بنا دیا ہے۔ اس لیے پاکستان اب یہ فرض نہیں کر سکتا کہ خلیجی ممالک ہمیشہ اس کے سفارتی مؤقف کی حمایت کریں گے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خوف یا جلد بازی کی بجائے دانشمندانہ اور متوازن حکمت عملی اختیار کرے۔ موجودہ عالمی نظام میں واضح اور مستقل پالیسی زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ پاکستان کو اپنی سلامتی، معیشت اور سفارتی تعلقات کو اس انداز میں ترتیب دینا ہوگا کہ وہ بدلتے ہوئے علاقائی طاقت کے توازن میں اپنا خود مختار کردار برقرار رکھ سکے۔

مشرق وسطیٰ کی سیاست ایک متحرک عمل ہے اور اس میں اچانک تبدیلیاں ممکن ہیں۔ ایسے ماحول میں کمزور ردعمل یا غیر محتاط فیصلے قومی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ریاستی حکمت عملی کا بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ پاکستان اپنی خود مختاری، استحکام اور علاقائی توازن کو ہر حال میں مقدم رکھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos