اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات بحال کرانے کی سفارتی کوششیں تیز

[post-views]
[post-views]

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی شرکت کے دوران منگل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں نمایاں رہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مختلف ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مذاکراتی حل کے لیے حمایت حاصل کرنا تھا۔ اس جنگ کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے بھی سراہا گیا، جبکہ علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ نے پائیدار امن کے لیے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی حمایت کا اعادہ کیا۔

ٹرمپ کی شہباز شریف کی تعریف، ایرانی وفد سے تین گھنٹے کی ملاقات کا انکشاف

وزیراعظم شہباز شریف، جن کا جنرل اسمبلی سے خطاب جمعرات کو شیڈول ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر میں بھی زیرِ بحث آئے۔

ٹرمپ نے پاکستانی وزیراعظم کو ایک ’’شاندار شخصیت‘‘ قرار دیتے ہوئے شہباز شریف کے ان سابقہ ریمارکس کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کا سہرا امریکی صدر کے سر باندھا تھا۔

ٹرمپ نے یہ بات ان تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے کہی جن کے حل میں انہوں نے کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان میں پاکستان اور بھارت، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا، آرمینیا اور آذربائیجان کے تنازعات کے علاوہ غزہ کا معاملہ بھی شامل تھا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے تھا، جبکہ نیویارک میں ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ممکنہ ملاقات کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار تھی۔

بعد ازاں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکی حکام نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد سے ملاقات کی ہے۔

امریکی صدر کے مطابق یہ ملاقات تین گھنٹے جاری رہی اور صحافیوں سے ان کی گفتگو سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ختم ہوئی تھی۔

ٹرمپ نے مذاکرات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل قریب میں ایک اور ملاقات متوقع ہے۔

انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ ایران کے سامنے معاہدہ کرنے یا مزید کشیدگی کا سامنا کرنے کا انتخاب موجود ہے۔

ٹرمپ کا یہ انکشاف ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکانات سے متعلق واشنگٹن کے مختلف بیانات کے بعد سامنے آیا۔

اس سے قبل منگل کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ اس وقت ایرانی نمائندوں کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں، تاہم اگر مذاکرات سے مثبت نتیجہ نکلنے کا امکان ہو تو واشنگٹن بات چیت کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب ایران نے اشارہ دیا کہ نیویارک میں موجود اس کے وفد کو سفارتی مذاکرات آگے بڑھانے کا اختیار حاصل ہے۔

تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو تجاویز بھی پہنچائی ہیں، جس سے مذاکرات کی بحالی کا امکان برقرار ہے۔

پاکستان کی واشنگٹن اور تہران کو رابطے برقرار رکھنے کی ترغیب

اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلسل امریکہ اور ایران پر زور دے رہا ہے کہ وہ بالواسطہ رابطے برقرار رکھیں اور براہِ راست مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کریں۔

اسلام آباد کی ثالثی کی کوششوں میں دونوں ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مشاورت بھی شامل ہے۔

ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔

ان ملاقاتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر بھی تبادلۂ خیال ہوا۔

ایرانی حکام نے علاقائی کشیدگی کم کرنے اور استحکام بحال کرنے کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔

یہ دورہ کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی پاکستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی تعریف

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا۔

ایک روز قبل نیویارک میں پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا کہ سیکریٹری جنرل امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی ختم کرانے کے لیے پاکستانی قیادت کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

دوجارک نے پاکستان کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا اور اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گوتریس تنازع ختم کرانے کی وسیع تر سفارتی کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے آرمی چیف کی ثالثی کی کوششوں سے متعلق سوال پر دوجارک نے کہا کہ اس عمل میں دیگر ممالک بھی شریک رہے ہیں، تاہم پاکستان کا کردار اہم رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان نے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطوں کی بحالی کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس تنازع کے خاتمے کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں جس سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان بدھ کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور دیگر عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا اسلام آباد مفاہمت کی حمایت کا اعادہ

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے علاقائی چار ممالک کے گروپ کے وزارتی اجلاس میں بھی شرکت کی، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔

یہ گروپ مارچ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی علاقائی کوششوں کے دوران سامنے آیا تھا اور اس کی توجہ سلامتی اور سفارتی تعاون پر مرکوز رہی ہے۔

نیویارک میں ہونے والے اجلاس کے دوران اسحاق ڈار نے اس چار ملکی فریم ورک سے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا اور علاقائی امن اور معاشی خوش حالی کے لیے مسلسل رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق شریک وزرا نے خطے کی تازہ صورتِ حال کا جائزہ لیا اور تنازع کے پُرامن حل کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزرا نے 21 ستمبر کو ہونے والی مشاورت میں علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ضروری ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کی اہمیت اجاگر کی۔

وزرا کے مطابق اس مفاہمت پر مسلسل عمل درآمد خطے میں دیرپا امن اور استحکام قائم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں

پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

انہوں نے صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود، آسٹریا کے چانسلر کرسچن اسٹوکر، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح سے ملاقاتیں کیں۔

یہ ملاقاتیں نیویارک میں پاکستان کی وسیع تر سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھیں، جن کے دوران پاکستانی قیادت علاقائی سلامتی، دوطرفہ تعلقات اور اہم عالمی چیلنجز پر بین الاقوامی شراکت داروں سے رابطے کر رہی ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا حل سامنے نہ آنے کے باعث اسلام آباد کی فوری سفارتی توجہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی حمایت پر مرکوز ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]