شہری فضائی آلودگی: بنیادی اسباب اور نظامی حل

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کا بحران اب محض موسمی ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ تیزی سے ایک ساختی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق کئی بڑے شہروں میں ذراتی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ٹرانسپورٹ ہے، تاہم آلودگی کے بنیادی اسباب ایک شہر سے دوسرے شہر میں نمایاں طور پر مختلف ہیں۔

اعداد و شمار مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ 2025 میں پاکستان میں پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار انتہائی بلند ریکارڈ کی گئی، جبکہ لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پشاور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہے۔ اس آلودگی کے اثرات براہِ راست انسانی صحت پر پڑ رہے ہیں اور اسے قبل از وقت اموات، سانس کی بیماریوں اور متوقع عمر میں کمی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

2024 کے سموگ کے موسم میں پنجاب کی صورتحال نے خراب فضائی معیار کے انسانی اثرات کو نمایاں کیا۔ صوبائی حکومت کو صحت کی ہنگامی صورتحال کا اعلان کرنا پڑا، جبکہ صرف ایک ماہ کے دوران سانس کی بیماریوں کے تقریباً 19 لاکھ 30 ہزار کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ بچے خاص طور پر اس خطرے سے دوچار ہیں اور لاکھوں بچے روزانہ مضر صحت ہوا میں سانس لینے پر مجبور ہیں۔

تاہم بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہروں میں فضائی آلودگی کی نوعیت یکساں نہیں۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں پی ایم 2.5 آلودگی میں ٹرانسپورٹ کا حصہ تقریباً 35 فیصد، راولپنڈی اسلام آباد میں 53 فیصد اور پشاور میں 51 فیصد ہے۔ کراچی کی صورتحال مختلف ہے، جہاں صنعتوں اور بندرگاہ سے متعلق سرگرمیوں کا حصہ تقریباً 49 فیصد ہے۔

یہ فرق واضح کرتا ہے کہ شہری فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک ہی قومی طریقہ کار کافی نہیں ہو سکتا۔ ہر شہر کے لیے آلودگی کے مخصوص ذرائع کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ پالیسیاں تشکیل دینا ضروری ہے۔

ٹرانسپورٹ کا مسئلہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ پاکستان کا شہری نقل و حمل کا نظام بڑی حد تک سڑکوں اور نجی گاڑیوں پر منحصر ہے۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیاں خاص طور پر تشویش کا باعث ہیں کیونکہ پرانے اور دو اسٹروک انجن اپنے حجم کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذراتی آلودگی پیدا کر سکتے ہیں۔ پشاور جیسے شہروں میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہے، جہاں بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ دو اسٹروک رکشے سڑکوں پر چل رہے ہیں۔

موٹر سائیکلوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے باعث آنے والی کمی کے بعد 2024 میں دو پہیوں والی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں بحالی ہوئی۔ صاف انجنوں، مؤثر اخراجی ضوابط اور نجی ٹرانسپورٹ کے مناسب متبادل کے بغیر گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ پہلے سے آلودہ شہری ماحول پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

عالمی تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ساختی اصلاحات شدید سموگ کے دوران عارضی پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ دیرپا نتائج دیتی ہیں۔ جن شہروں نے صاف ٹرانسپورٹ، سخت اخراجی معیارات اور مستقل انسدادِ آلودگی اقدامات میں سرمایہ کاری کی، وہاں ان شہروں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر نتائج سامنے آئے جو بنیادی طور پر ہنگامی اقدامات پر انحصار کرتے رہے۔

پاکستان کے پاس پہلے ہی کچھ اہم بنیادیں موجود ہیں جنہیں مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔ پشاور کا بس ریپڈ ٹرانزٹ نظام روزانہ 3 لاکھ 45 ہزار سے زیادہ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ لاہور کی میٹرو بس اور اورنج لائن مجموعی طور پر روزانہ ڈھائی لاکھ سے زیادہ مسافروں کو خدمات فراہم کرتی ہیں۔ راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سے بھی روزانہ تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار افراد استفادہ کرتے ہیں اور اب اس نظام کو الیکٹرک بسوں سے مزید تقویت دی جا رہی ہے۔

ان نظاموں کو وسعت دینا، ان کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور عوامی نقل و حمل کو نجی گاڑیوں کا حقیقی اور قابلِ عمل متبادل بنانا شہری صاف ہوا کی حکمت عملی کا ایک مؤثر حصہ بن سکتا ہے۔ شہری ٹرانسپورٹ کی منصوبہ بندی میں فلائی اوورز، انڈر پاسز اور مزید سڑکیں بنانے کے بجائے اجتماعی نقل و حمل اور پیدل چلنے والوں کی سہولت کو زیادہ ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

صاف ایندھن بھی حل کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن صرف ایندھن کے بہتر معیارات کافی نہیں۔ پاکستان یورو 5 ایندھن کی جانب پیش رفت کر چکا ہے اور 2030 تک یورو 6 معیار اپنانے کا ہدف رکھتا ہے۔ تاہم اس کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب گاڑیاں بھی مناسب اخراجی اور فٹنس معیارات پر پوری اتریں۔

گاڑیوں کی جانچ کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کے لیے صرف 32 معائنہ مراکز موجود ہیں۔ اس لیے اخراج کی لازمی جانچ اور گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا قابلِ اعتماد نظام فضائی آلودگی میں کمی کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

سخت نگرانی کے ساتھ گاڑیوں کے بیڑے کی تجدید بھی ضروری ہے۔ پنجاب پہلے ہی فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں پر پابندی عائد کر چکا ہے اور ماحولیاتی ٹریفک دستے بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ پرانی اور زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے شفاف نظام ان اقدامات کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنا بھی ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، خصوصاً موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے حوالے سے۔ قومی برقی گاڑی پالیسی 2025 تا 2030 کے تحت ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 تک نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں 30 فیصد برقی گاڑیاں ہوں، جس کے لیے 100 ارب روپے سے زیادہ کی مراعات رکھی گئی ہیں۔ پیش کردہ معلومات کے مطابق سبسڈی کے ذریعے اب تک ایک لاکھ 16 ہزار سے زیادہ برقی موٹر سائیکلوں اور 3 ہزار برقی رکشوں کی معاونت کی گئی ہے، جبکہ پنجاب دوسرے مرحلے میں مزید ایک لاکھ برقی موٹر سائیکلیں فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

ریلوے کو بھی وسیع تر ٹرانسپورٹ حکمت عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ مسافروں اور سامان کی ریل کے ذریعے نقل و حمل میں اضافہ، بالخصوص ایم ایل ون راہداری میں بہتری، شہروں کے اندر اور ان کے درمیان بھاری ڈیزل گاڑیوں پر انحصار کم کر سکتا ہے۔

شہری سطح پر ٹرانسپورٹ کی طلب کو بھی منظم کرنا ہوگا۔ معاوضے کے ساتھ پارکنگ، منظم پارکنگ سہولیات اور بڑے شہری مراکز میں رش کے اوقات میں گاڑیوں پر خصوصی محصول جیسے اقدامات غیر ضروری نجی گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں اور لوگوں کو عوامی نقل و حمل کی جانب منتقل ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

بنیادی سبق واضح ہے: پاکستان آلودہ ہوا کو ایک ایسی ہنگامی صورتحال سمجھ کر نہیں چل سکتا جو ہر موسمِ سرما میں نمودار ہوتی ہے اور سموگ ختم ہوتے ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔

اس بحران کی وجوہات اس بات میں پوشیدہ ہیں کہ ہمارے شہر لوگوں کی نقل و حرکت کا انتظام کیسے کرتے ہیں، گاڑیوں کو کس طرح ضابطے میں لاتے ہیں، صنعتوں کی نگرانی کیسے کرتے ہیں، شہری ترقی کی منصوبہ بندی کس انداز میں کرتے ہیں اور ماحولیاتی قوانین پر کس حد تک عمل درآمد کراتے ہیں۔ یہ وجوہات ہر شہر میں مختلف بھی ہیں۔ لاہور کے مسائل کا حل کراچی کے طریقہ کار سے نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح پشاور کی فضائی آلودگی کے لیے اسلام آباد کی ضروریات کے مطابق بنائی گئی پالیسی کافی نہیں ہوگی۔

پاکستان کو اس لیے ہر شہر کی ضروریات کے مطابق صاف ہوا کی الگ حکمت عملی درکار ہے، جس کی بنیاد اجتماعی نقل و حمل، گاڑیوں کے اخراج کی سخت نگرانی، صاف ایندھن، پرانی گاڑیوں کی تبدیلی، برقی ٹرانسپورٹ، ریلوے کی ترقی اور بہتر شہری منصوبہ بندی پر ہو۔ جن شہروں میں صنعتیں، اینٹوں کے بھٹے یا ایندھن جلانے کے دیگر ذرائع آلودگی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں، وہاں ان عوامل کے لیے بھی مخصوص اقدامات ضروری ہیں۔

صاف ہوا کو اب سموگ کے موسم تک محدود ایک عارضی مسئلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اسے صحتِ عامہ، شہری منصوبہ بندی اور قومی ترقی کی مستقل ترجیح بنانا ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]