مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی کے ملازمین کو مصنوعی ذہانت کے لیے خبروں کے استعمال پر تشویش

[post-views]
[post-views]

حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ مائیکروسافٹ اور اس کی قریبی شراکت دار اوپن اے آئی کے اندر مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرنے کے لیے لاکھوں خبروں اور مضامین کے استعمال پر خاصی تشویش پائی جاتی تھی۔

اوپن اے آئی جب اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو تیزی سے آگے بڑھا رہی تھی تو مائیکروسافٹ کے ملازمین اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آیا شائع شدہ مواد کو اس انداز میں استعمال کرنا ’’انسانی تاریخ میں محنت کی سب سے بڑی چوری‘‘ کے مترادف ہو سکتا ہے۔ ملازمین نے ایک ایسے تباہ کن چکر کے خدشے کا بھی اظہار کیا جس میں مصنوعی ذہانت کے نظام بالآخر انہی معیاری معلوماتی ذرائع کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جن پر بڑے لسانی نمونوں کی تیاری کا انحصار ہے۔

مائیکروسافٹ کی 2023 کی ایک اندرونی دستاویز میں کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ جلد ہی بڑے مصنوعی ذہانت کے نمونوں کی جانب سے ان کے کام کو بڑے پیمانے پر جمع کرنے اور استعمال کرنے کو غیر معمولی سطح کی چوری تصور کر سکتے ہیں۔

اوپن اے آئی کے اندر بھی اسی نوعیت کے خدشات زیر بحث تھے۔ ادارے کے عہدیدار اس امکان پر غور کر رہے تھے کہ چیٹ جی پی ٹی لوگوں کو براہِ راست خبر رساں اور صحافتی اداروں کی ویب گاہوں پر جانے کے بجائے چیٹ بوٹ کے ذریعے ہی معلومات حاصل کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جون 2023 کی ایک اندرونی یادداشت میں چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی ٹیم کی قیادت کرنے والے نک ٹرلی نے مصنوعی ذہانت کو ناشرین کے لیے ’’وجودی خطرہ‘‘ قرار دیا تھا۔ فروری 2024 میں انہوں نے لکھا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات ٹیکنالوجی میں بہتری کے ساتھ موجودہ ذرائع کا متبادل بننے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کریں گی۔

ان اندرونی مباحث کے کچھ حصے جمعرات کو ان عدالتی دستاویزات کے ذریعے سامنے آئے جو 2023 کے اواخر میں نیویارک ٹائمز کی جانب سے اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف دائر کیے گئے حقوقِ اشاعت کے مقدمے سے متعلق ہیں۔ بعد میں مزید گیارہ ناشرین بھی اس مقدمے میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس مقدمے کی سماعت نیویارک کے جنوبی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کے جج سڈنی ایچ اسٹین کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت مقدمے کا مکمل باقاعدہ ٹرائل کیے بغیر دستیاب حقائق اور قانونی دلائل کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ مقدمے سے متعلق مزید دستاویزات بھی بتدریج عوام کے سامنے لائی جا رہی ہیں۔

نئی سامنے آنے والی دستاویزات سے اس بات کی ایک اہم جھلک ملتی ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت کے نظام تیزی سے ترقی کر رہے تھے تو خود ان ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اندر بھی ناشرین، صحافت اور اصل تخلیقی مواد پر ان کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات موجود تھے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]