ریپبلک پالیسی ایک مؤثر، جوابدہ اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ سول سروس کے قیام کے لیے ساختی اور ترغیباتی نظام میں اصلاحات کو بنیادی اہمیت دیتی ہے۔
پاکستان میں سول سروس کی اصلاحات سے متعلق زیادہ تر مباحث روایتی طور پر استعداد کار میں اضافے، پیشہ ورانہ تربیت اور انتظامی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز رہے ہیں۔ تاہم، ریپبلک پالیسی کا مؤقف ہے کہ بنیادی مسئلہ سرکاری ملازمین کی صلاحیتوں میں کمی نہیں بلکہ ان ادارہ جاتی ڈھانچوں اور ترغیباتی نظام میں ہے جو بیوروکریسی کے طرزِ عمل اور کارکردگی کا تعین کرتے ہیں۔
لہٰذا سول سروس کی اصلاحات محض انفرادی صلاحیتوں کو بہتر بنانے تک محدود نہیں رہ سکتیں۔ اس کے لیے ادارہ جاتی انتظامات، انتظامی اختیارات اور ترغیباتی نظام کی جامع تشکیلِ نو ضروری ہے، کیونکہ یہی عوامل بیوروکریسی کے رویوں، فیصلہ سازی اور مجموعی کارکردگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
ریپبلک پالیسی نے اپنی کتاب فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ آف گورنمنٹ میں پاکستان کی سول سروس میں اصلاحات کے لیے پانچ بنیادی اصول پیش کیے ہیں۔ یہ تجاویز ادارے کی آزادانہ تحقیق پر مبنی ہیں اور اصلاحات کے ان روایتی طریقوں کا متبادل پیش کرتی ہیں جن میں بنیادی توجہ استعداد کار بڑھانے پر دی جاتی ہے۔
ایک آزاد تھنک ٹینک کی حیثیت سے، جو عطیہ دہندگان کی مالی معاونت پر انحصار نہیں کرتا، ریپبلک پالیسی اپنی تحقیق اور ادارہ جاتی تجزیے کی بنیاد پر ایک مقامی اور خودمختار اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کرتی ہے۔
اس کتاب میں ان تجاویز کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے، جبکہ اس ویڈیو میں سول سروس کی اصلاحات سے متعلق ریپبلک پالیسی کے نقطۂ نظر کے بنیادی دلائل متعارف کرائے گئے ہیں۔
ریپبلک پالیسی پالیسی سازوں، محققین، سرکاری ملازمین اور باشعور شہریوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اس کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تنقیدی جائزہ لیں اور پاکستان میں نظامِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ادارہ جاتی تبدیلیوں پر سنجیدہ غور و فکر کریں۔
سول سروس کی اصلاحات کے مکمل خاکے کو سمجھنے کے لیے کتاب فکسنگ دی ایگزیکٹو برانچ آف گورنمنٹ حاصل کریں۔
کتاب منگوانے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں: 0341
-4222501









