تہران: ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل اسلامی جمہوریہ ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں لاریجانی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران کو بنیادی طور پر کمزور کرنا اور اسے ٹکڑوں میں بانٹنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی۔ اس کے جواب میں ایران نے ڈرون اور میزائل حملے کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔
علی لاریجانی نے کہا کہ امریکا ایران میں ویسا ہی منظرنامہ پیدا کرنا چاہتا ہے جیسا وینزویلا میں دیکھنے میں آیا، جہاں واشنگٹن کی جانب سے نکولس مادورو کو ہٹانے کے بعد عبوری قیادت نے دباؤ کے تحت اس کے ساتھ تعاون کیا۔
ان کے مطابق امریکی پالیسی ساز مغربی ایشیا خصوصاً ایران کے حالات اور پس منظر کو درست طور پر نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو یہ گمان تھا کہ وہ حملہ کرے گا، کنٹرول حاصل کرے گا اور معاملہ جلد ختم ہو جائے گا، مگر اب وہ خود اس صورتحال میں پھنس چکا ہے۔
لاریجانی نے ایرانی کرد گروہوں کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران میں کرد کارروائیوں کی حمایت کے بعد ایرانی مسلح افواج نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ان گروہوں نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو انہیں سخت جواب دیا جائے گا۔









