عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی اضافے کے بعد قیمتوں میں کچھ کمی ضرور ہوئی تاہم مجموعی طور پر نرخ اب بھی پندرہ فیصد سے زیادہ بلند ہیں اور یہ سطح دو ہزار بائیس کے وسط کے بعد پہلی بار دیکھی جا رہی ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ ایران کے گرد پھیلتی ہوئی امریکا اور اسرائیل کی جنگ، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور بعض بڑے پیداواری ممالک کی جانب سے رسد میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً پندرہ ڈالر سے زیادہ اضافے کے ساتھ فی بیرل ایک سو آٹھ ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل ایک سو پانچ ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ اس سے قبل کاروبار کے دوران دونوں اقسام کے تیل کی قیمتیں ایک سو انیس ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھیں۔
ماہرین کے مطابق خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی منڈی کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ ٹینکرز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور سلامتی کے بڑھتے خدشات نے ایشیائی خریداروں کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔
ادھر عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے جبکہ قطر پہلے ہی مائع گیس کی فراہمی محدود کر چکا ہے۔ علاقائی کشیدگی کے باعث بعض ریفائنریوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں جس سے عالمی توانائی منڈی پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









