اداریہ: حکمرانی اور معاشرہ

[post-views]
[post-views]

انتخابی مہم کے دوران ایک مانوس منظر پر غور کریں۔ ایک سیاست دان اپنے حلقے میں واپس آتا ہے، جہاں وہ سڑکوں، قبرستانوں کی چار دیواری، بجلی کے کنکشن اور دیگر مقامی منصوبوں کے لیے فنڈز کا انتظام کرچکا ہوتا ہے۔ لوگ اس کے استقبال کے لیے جمع ہوتے ہیں اور کبھی اس پر گلاب کی پتیاں بھی نچھاور کرتے ہیں۔ اس طرح ترقیاتی اخراجات کو شہریوں کے حق کی فراہمی کے بجائے ایک سیاست دان کی ذاتی سخاوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک نمایاں مثال میں، اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے ایک سابق رکن نے عام انتخابات سے قبل ایک مقامی زمیندار سے کہا کہ وہ پورے ایک ماہ تک لوگوں میں مفت مٹھائی تقسیم کرے۔

یہ تعلق انتخابات کے بعد بھی برقرار رہتا ہے۔ قومی اسمبلی کے ارکان سے صرف سڑکوں، گیس اور بجلی کے کنکشن کے لیے ہی رجوع نہیں کیا جاتا بلکہ زمین، جائیداد اور شادی سے متعلق تنازعات کے غیر رسمی فیصلوں کے لیے بھی ان سے مدد مانگی جاتی ہے۔ یوں ان کے فارم ہاؤسز حکمرانی کے متبادل مراکز بن جاتے ہیں۔

اس کی سیاسی معیشت بالکل واضح ہے: بااثر لوگ سڑکیں، سہولیات اور رسائی حاصل کرلیتے ہیں، جبکہ کمزور اور محروم طبقات پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ترقی ضرورت کے بجائے اثر و رسوخ کے تابع ہوجاتی ہے۔ ریپبلک پالیسی کی تحقیق مزید یہ مؤقف پیش کرتی ہے کہ ایسے نظام میں سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام مؤثر ترقی کا ذریعہ بننے کے بجائے مفادات اور مالی فوائد کے حصول کا وسیلہ بن جاتا ہے۔

پاکستان کو دو بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے: معاشرے کو بااختیار بنانا اور مؤثر مقامی و شہری حکومتوں کے ذریعے شہری اور ریاست کے تعلق کو مضبوط کرنا۔

شہریوں کو مقامی خدمات قانون سازوں کے بجائے متعلقہ اداروں سے ملنی چاہییں۔ مضبوط مقامی حکومتیں ترقی کو زیادہ مساوی بنا سکتی ہیں، سیاسی سرپرستی کو کم کرسکتی ہیں اور قانون سازوں کو ان کی اصل ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع دے سکتی ہیں: قانون سازی، عوامی نمائندگی اور انتظامیہ کی نگرانی۔

پاکستان کو سرپرست اور مستفید ہونے والے کی سیاست سے نکل کر شہری اور ریاست کے نظام کی طرف بڑھنا ہوگا۔

اچھی حکمرانی کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں شہریوں کو عوامی خدمات سیاسی احسان کے طور پر نہیں بلکہ ان کے حق کے طور پر ملتی ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]