ریپبلک پالیسی کی تجویز: انتخابی انتظام کے لیے مستقل افرادی قوت

[post-views]
[post-views]

انتخابی نظام کی مؤثر انتظام کاری کے لیے ایک نمایاں اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے مستقل اور مخصوص افرادی قوت موجود ہو۔ دوسرے محکموں سے عارضی طور پر لیے گئے عملے پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے پاکستان کو الیکشن کمیشن کی مستقل سول سروس تشکیل دینی چاہیے، جس میں ایسے خصوصی افسران اور معاون عملے پر مشتمل ایک باقاعدہ کیڈر ہو جن کی پوری پیشہ ورانہ زندگی انتخابی انتظام سے وابستہ ہو۔

یہ افسران تحصیل اور ضلع کی سطح پر ابتدائی عہدوں، مثلاً انتخابی افسر، سے اپنی ملازمت کا آغاز کرسکتے ہیں اور ترقی کرتے ہوئے صوبائی انتخابی کمشنرز اور الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر میں اعلیٰ انتظامی عہدوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا پیشہ ورانہ کیڈر تشکیل پائے گا جو انتخابی انتظام، رسد، ووٹر آگاہی، قانونی امور اور انتخابات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت حاصل کرے گا۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ افسران صوبائی حکومتوں یا دیگر سرکاری محکموں کے بجائے براہِ راست الیکشن کمیشن کے انتظامی نظام اور سلسلۂ اختیار کے تابع ہوں گے۔ اس سے مفادات کے ٹکراؤ کو کم کرنے اور الیکشن کمیشن کی ادارہ جاتی خودمختاری کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ پاکستان میں سول سروس کی اصلاح کے لیے ماہرینِ حکمرانی کی جانب سے تجویز کردہ ’’پانچ اصولوں‘‘ کو الیکشن کمیشن پر بھی لاگو کیا جاسکتا ہے:

اس سروس کو پارلیمان کے ایک قانون، یا قانونِ انتخابات میں ترمیم کے ذریعے قائم کیا جانا چاہیے اور اسے باقاعدہ طور پر ’’انتخابی سروس پاکستان‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت سرکاری خدمات کو قانون کے ذریعے منظم کرنے کی آئینی ضرورت پوری ہوگی اور انتخابی عملے کو واضح قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ متعلقہ قانون میں اس سروس کے ڈھانچے، فرائض، اختیارات اور قانونی تحفظ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا داخلی انتظامی ڈھانچہ وفاقی اصولوں کی عکاسی کرے، جس میں مرکزی اختیار اور صوبائی امور کے درمیان واضح تقسیم موجود ہو۔ مثال کے طور پر الیکشن کمیشن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں انتخابی انتظام، قانونی امور، تربیت، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کے لیے الگ انتظامی حصے قائم کیے جاسکتے ہیں، جبکہ ہر صوبے میں انتخابی کمشنر کو صوبائی عملے کے انتظام کے لیے مناسب خودمختاری حاصل ہو۔ پالیسی میں یکسانیت برقرار رکھتے ہوئے عملی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سے الیکشن کمیشن زیادہ فعال اور مؤثر ادارہ بن سکتا ہے۔ مقصد ایک چست اور جواب دہ ادارہ تشکیل دینا ہونا چاہیے، نہ کہ ایک بھاری بھرکم اور مرکزیت پسند افسر شاہی۔

انتخابی سروس میں بھرتی اور ترقی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیے، مناسب اور مسابقتی تنخواہیں دی جائیں اور پیشہ ورانہ مہارت پیدا کرنے کے لیے مسلسل تربیت کا نظام قائم کیا جائے۔ انتخابی افسران کی تعیناتی، بشمول ریٹرننگ افسران، نگرانی کرنے والی ٹیموں اور تربیتی نگرانوں، کا انتظام خود الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیے تاکہ انہیں بیرونی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھا جاسکے۔

وقت کے ساتھ انتخابات کے لیے دوسرے محکموں سے عارضی عملہ لینے پر انحصار بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اہم انتخابی عملہ، خصوصاً پریزائیڈنگ افسران، تربیت یافتہ رضاکاروں یا الیکشن کمیشن کے زیرِ انتظام معاہداتی انتخابی عملے کے مستقل ذخیرے سے لیا جاسکتا ہے، بجائے اس کے کہ ہر انتخاب میں سکول اساتذہ کو غیر منظم انداز میں انتخابی فرائض سونپ دیے جائیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]