کون کہتا ہے کہ مطالعے کا زمانہ ختم ہوگیا؟

[post-views]
[post-views]

برسوں تک میرا خیال تھا کہ تحریری مکالمے بنیادی طور پر ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو سن نہیں سکتے یا جنہیں سننے میں دشواری ہوتی ہے، یا پھر ان ناظرین کے لیے جو کسی ایسی زبان میں فلم یا پروگرام دیکھ رہے ہوں جسے وہ نہیں سمجھتے۔ اگر کسی پروگرام کو دیکھنا شروع کرتے وقت تحریری مکالمے اسکرین پر ظاہر ہوجاتے تو میں اسے غلط ترتیب سمجھتا اور جھنجھلا کر فوراً بند کردیتا۔

لیکن بظاہر اب میں اقلیت میں شامل ہوتا جارہا ہوں۔

ٹیلی وژن، فلموں اور آن لائن ویڈیوز کے ساتھ تحریری مکالمے پڑھنا اب دیکھنے کے معمول کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت کم از کم کبھی کبھار انہیں استعمال کرتی ہے، جبکہ نوجوانوں میں یہ رجحان خاص طور پر زیادہ ہے۔ آج کسی ایسے کمرے میں نظر دوڑائیں جہاں لوگ کوئی پروگرام دیکھ رہے ہوں تو اس بات کا خاصا امکان ہے کہ آواز بالکل واضح ہونے کے باوجود مکالمے اسکرین کے نیچے تحریری صورت میں بھی چل رہے ہوں۔

ابتدا میں اس کی وجوہ بہت سادہ دکھائی دیتی ہیں۔

لوگ کہتے ہیں کہ تحریری مکالموں سے وہ ایسی باتیں بھی سمجھ لیتے ہیں جو صرف سننے سے رہ سکتی ہیں۔ مختلف لہجے سمجھنے میں مشکل پیدا کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسکاٹ لینڈ کا انگریزی لہجہ کسی امریکی ناظر کے لیے مشکل ہوسکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے تیز رفتار امریکی گفتگو کسی دوسرے ملک کے شخص کے لیے سمجھنا دشوار ہوسکتی ہے۔ ایک ہی لہجے میں بھی اداکار بعض اوقات دھیمی آواز میں بولتے ہیں، پس منظر کی موسیقی مکالموں پر غالب آجاتی ہے اور جدید صوتی آمیزش بعض الفاظ کو حیرت انگیز طور پر مشکل بنا دیتی ہے۔

ایک وقت تھا جب ناظرین یہ بات قبول کرلیتے تھے کہ کچھ الفاظ ان کی سمجھ میں نہیں آئیں گے۔ عام زندگی کی گفتگو میں بھی ایسا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن نشر و اشاعت کی جدید ٹیکنالوجی نے ہماری توقعات بدل دی ہیں۔ اگر ہر لفظ فوراً اسکرین پر پڑھا جاسکتا ہے تو پھر بیشتر گفتگو سمجھ لینے پر ہی اکتفا کیوں کیا جائے؟

مثال کے طور پر ڈراما سیریز ’’دی وائر‘‘ کو لیجیے، جس میں تیز رفتار مکالمے، ایک دوسرے پر چڑھتی ہوئی گفتگو اور امریکی انگریزی کے مخصوص انداز موجود ہیں۔ بیس سال پہلے میں امریکا سے باہر کے لوگوں کو خبردار کیا کرتا تھا کہ اس کے بعض حصے سمجھنا ان کے لیے مشکل ہوسکتا ہے۔ آج اس کا حل بالکل سادہ ہے: تحریری مکالمے چلا لیجیے۔

اس کی کچھ عملی وجوہ بھی ہیں۔ اگر آپ کسی عوامی مقام پر اپنے فون پر کچھ دیکھ رہے ہیں اور اتنے مہذب ہیں کہ آس پاس موجود ہر شخص کو اپنے فون کی آواز سننے پر مجبور نہیں کرتے تو تحریری مکالمے بے حد مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی مدد سے لوگ ویڈیو دیکھتے ہوئے کسی کو پیغام بھیج سکتے ہیں، دوسری چیزیں دیکھ سکتے ہیں یا بیک وقت کوئی اور کام کرسکتے ہیں۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اپنی توجہ کو اس قدر تقسیم کرنے میں کیا کشش ہے، لیکن ظاہر ہے بہت سے لوگ ایسا کرنا پسند کرتے ہیں۔

پھر بھی یہ تمام وضاحتیں پوری حقیقت بیان نہیں کرتیں۔

میں نے نوجوانوں کے ایسے گروہ دیکھے ہیں جو ایک پرسکون اور آرام دہ کمرے میں بیٹھے ’’دی سمپسنز‘‘ دیکھ رہے ہوتے ہیں، آواز بھی اتنی بلند ہوتی ہے کہ ہر شخص آسانی سے سن سکتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ تحریری مکالمے چلانے پر اصرار کرتے ہیں۔ گفتگو مشکل نہیں ہوتی، کوئی سرگوشی نہیں کررہا ہوتا اور نہ ہی کئی پیچیدہ مکالمے بیک وقت چل رہے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود تحریری مکالمے اسکرین پر موجود رہتے ہیں۔

یہی معاملہ بڑی عمر کے ناظرین میں بھی نظر آتا ہے۔ میں کبھی کبھار ایک روسی جوڑے کے ساتھ پرانی فلمیں دیکھتا ہوں جن کی انگریزی غیر معمولی طور پر اچھی ہے۔ پرانی فلموں کی آواز بعض اوقات شور اور غیر واضح صوتی معیار کے باعث سمجھنا مشکل ہوتی ہے، اس لیے ان کے لیے تحریری مکالمے واقعی مددگار ہوتے ہیں۔ یہ بات بالکل قابلِ فہم ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ ہمارے ساتھ موجود نہ بھی ہوں تو باقی لوگ پھر بھی تحریری مکالمے چلانا چاہتے ہیں۔

یہیں سے یہ رجحان زیادہ دلچسپ ہوجاتا ہے۔ شاید تحریری مکالمے اب محض سماعت میں مدد دینے کا ذریعہ نہیں رہے۔ وہ اس طریقے کا حصہ بن گئے ہیں جس کے ذریعے بہت سے لوگ صوتی و بصری مواد کو سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں۔

اور شاید یہ رجحان ہمیں مطالعے کے بارے میں بھی ایک غیر متوقع بات بتاتا ہے۔

ہمیں مسلسل بتایا جاتا ہے کہ لوگ، خصوصاً نوجوان، اب پڑھتے نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کم ہورہی ہے، کتابیں مختصر ویڈیوز کے سامنے اپنی جگہ کھو رہی ہیں اور اسکرین نے تحریر کی جگہ لے لی ہے۔ عام تصور یہی ہے کہ بصری ثقافت بتدریج مطالعے کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔

لیکن لاکھوں لوگ اپنی مرضی سے ایک ایسی سرگرمی میں تحریر شامل کررہے ہیں جس میں بنیادی طور پر اس کی ضرورت ہی نہیں۔

وہ بیک وقت دیکھ بھی رہے ہیں اور پڑھ بھی رہے ہیں۔

ممکن ہے تحریری مکالموں نے ٹیلی وژن کو ایک مخلوط ذریعہ بنا دیا ہو۔ ناظر اداکار کو سنتا ہے، اس کی اداکاری دیکھتا ہے اور تقریباً اسی لمحے اس کے الفاظ پڑھ بھی لیتا ہے۔ تحریری الفاظ بولے گئے الفاظ کو تقویت دیتے ہیں، ابہام کم کرتے ہیں اور معلومات کو سمجھنا آسان بناتے ہیں۔ بظاہر ایک عجیب جدید عادت دراصل ایک ہی معلومات کو ایک سے زیادہ طریقوں سے حاصل کرنے کی انسانی ترجیح کی عکاسی ہوسکتی ہے۔

اس کے پیچھے ایک گہری تکنیکی تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔ ہم اب ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں تحریر ہر طرف موجود ہے۔ پیغامات، سماجی ذرائع ابلاغ کی تحریریں، تلاش کے نتائج، اطلاعات، تبصرے اور اسکرین پر چلنے والے الفاظ دن بھر ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اسمارٹ فون کے ساتھ پروان چڑھنے والی نسلوں کے لیے تحریری اور صوتی و بصری معلومات کے درمیان مسلسل آنا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ان کے لیے ابلاغ کا طریقہ ہی یہی ہے۔

اس لحاظ سے تحریری مکالمے دیکھنے کے تجربے میں خلل نہیں ڈالتے۔ بہت سے لوگوں کے لیے وہ اس تجربے کو مکمل کرتے ہیں۔

البتہ اس عادت کی کچھ قیمت بھی ہے۔ جب تحریری مکالمے چل رہے ہوں تو آنکھ فطری طور پر ان کی طرف جاتی ہے۔ اداکار کے چہرے کے تاثرات، منظر، پس منظر یا کسی شاٹ کی فنی ترتیب پر پوری توجہ دینے کے بجائے ناظر ہر منظر کا کچھ حصہ اسکرین کے نچلے حصے میں الفاظ پڑھنے میں گزار سکتا ہے۔ مزاحیہ جملے کا اثر بھی کم ہوسکتا ہے اگر اس کا آخری اور اہم حصہ اداکار کے بولنے سے ایک لمحہ پہلے تحریر میں سامنے آجائے۔ بعض اوقات تجسس، مکالمے کی روانی اور اچانک پیدا ہونے والا اثر پہلے ہی الفاظ پڑھ لینے کی نذر ہوجاتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو اب بھی تحریری مکالمے پریشان کرتے ہیں۔ فلم اور ٹیلی وژن بنیادی طور پر دیکھنے اور سننے کے لیے بنائے گئے تھے، اور مسلسل مکالمے پڑھنا بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے اور اداکاری کے درمیان ایک اضافی تہہ حائل ہوگئی ہو۔

لیکن ٹیکنالوجی کے ساتھ عادات بھی بدلتی ہیں۔ ممکن ہے نوجوان ناظرین تحریری مکالموں کو کسی مداخلت کے طور پر محسوس ہی نہ کرتے ہوں۔ اگر انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسی مختصر ویڈیوز دیکھتے ہوئے گزارا ہے جن کے ساتھ اسکرین پر الفاظ بھی موجود ہوتے ہیں تو تحریر کے بغیر صوتی و بصری مواد انہیں نامکمل محسوس ہوسکتا ہے۔

اس لیے شاید تحریری مکالموں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہمیں مطالعے کے خاتمے سے متعلق عام تشویش پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

ممکن ہے لوگ پچھلی نسلوں کے مقابلے میں کم ناول، اخبارات یا طویل مضامین پڑھ رہے ہوں۔ یہ ایک حقیقی ثقافتی تشویش ہوسکتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ تحریری زبان ہماری روزمرہ زندگی سے غائب ہورہی ہے۔ بعض حوالوں سے شاید ہم پہلے سے کہیں زیادہ پڑھ رہے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ اب ہم مختصر ٹکڑوں میں اور ایسی جگہوں پر پڑھ رہے ہیں جہاں پچھلی نسلوں نے تحریر کی موجودگی کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ٹیلی وژن کی اسکرین اب انہی جگہوں میں سے ایک ہے۔

کئی دہائیوں تک ٹیلی وژن کو مطالعے کا بڑا حریف قرار دیا جاتا رہا۔ اسے ایک ایسی غیر فعال اسکرین سمجھا گیا جو بالآخر کتاب اور تحریر کو شکست دے دے گی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب ناظرین نے خود الفاظ کو دوبارہ اسکرین پر واپس لانا شروع کردیا ہے۔

تو پھر کون کہتا ہے کہ مطالعے کا زمانہ ختم ہوگیا؟ ہم ایک ایسے دلچسپ دور میں پہنچ چکے ہیں جہاں بہت سے لوگ ٹیلی وژن بھی اس وقت تک دیکھنا پسند نہیں کرتے جب تک اس کے ساتھ کچھ پڑھ نہ رہے ہوں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]