وفاقی نظام کے تقاضوں کے مطابق پولیس اصلاحات کی ضرورت

[post-views]
[post-views]

ریپبلک پالیسی آئندہ منعقد ہونے والے سیمینار میں پولیس اصلاحات کو قومی گورننس اور وفاقی نظام کے تناظر میں زیرِ بحث لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ادارے کے نزدیک پولیس اصلاحات کو محض انتظامی ردوبدل یا پولیس کے موجودہ ڈھانچے میں جزوی تبدیلیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں پاکستان کے آئینی، وفاقی اور مقامی حکومتی نظام کے مطابق تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

ریپبلک پالیسی کے صدر طاہر مقصود چیمہ، جو خود ریٹائرڈ ایس ایس پی ہیں، نے پولیس اصلاحات کے موضوع پر تحقیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے عملی تجربے، دورانِ ملازمت سامنے آنے والے انتظامی و تفتیشی مسائل اور متعلقہ رپورٹس کی روشنی میں پولیس کے موجودہ نظام اور اس میں درکار اصلاحات کا جائزہ لیا ہے۔ ان کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پولیس کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو ریاست کے مختلف آئینی درجاتِ حکومت اور ان کی ذمہ داریوں کے مطابق منظم کیا جائے۔

ریپبلک پالیسی کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں پولیس اصلاحات کا سوال بنیادی طور پر وفاقیت، اختیارات کی تقسیم اور قانون و امن کی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ جب ریاستی اختیارات وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر تقسیم ہیں تو امن و امان اور پولیسنگ کے نظام کو بھی اسی آئینی تقسیم کے مطابق استوار ہونا چاہیے۔ سادہ الفاظ میں، ہر سطح کی حکومت کو اپنی آئینی حدود اور دائرۂ اختیار کے اندر امن و امان کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے موزوں ادارہ جاتی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔

اس اصول کے تحت انتہائی اہم اور بین الصوبائی یا وفاقی نوعیت کے سلامتی کے معاملات وفاقی سطح پر دیکھے جا سکتے ہیں، جبکہ صوبائی دائرۂ اختیار سے متعلق پولیسنگ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اسی طرح مقامی نوعیت کے امن و امان، شہری نظم اور روزمرہ پولیسنگ کے معاملات میں مقامی حکومتوں کا مؤثر کردار ناگزیر ہے۔ یوں پولیسنگ کا نظام بالائی سطح سے نچلی سطح تک ذمہ داریوں کی نوعیت اور آئینی دائرۂ اختیار کے مطابق تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

اس تصور کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب ایک مرکزی یا وفاقی ادارہ دوسرے دائرۂ اختیار میں براہِ راست کارروائی کرتا ہے تو وفاقی اکائیوں کے درمیان خودمختاری اور اختیارات کے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایک وفاقی ریاست میں مؤثر پولیسنگ کا مقصد صرف طاقت کا استعمال نہیں بلکہ اختیار، ذمہ داری اور جواب دہی کے درمیان آئینی توازن قائم کرنا بھی ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ادارہ جاتی اتفاقِ رائے قائم کیا جائے اور وفاقیت کی روح کے مطابق ہر سطح کی حکومت کے قانون و امن سے متعلق اختیارات اور ذمہ داریوں کو متعین کیا جائے۔ اسی بنیاد پر پولیس کے وفاقی، صوبائی اور مقامی کردار کو واضح کرکے ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جس میں ہر ادارہ اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کرے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]