پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے زچہ و بچہ اسپتال کے تیسرے فلور پر واقع وارڈ میں بدھ کے روز آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ اسپتال کی نرسری میں لگی، جس کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ کیپیٹل ایمرجنسی سروس اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق آگ کی اطلاع صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ملی، جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیمیں سات منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئیں۔
امدادی کارروائی میں چھ فائر انجن اور چار ایمبولینسیں حصہ لے رہی تھیں۔ فائر ٹینڈرز، امدادی ٹیمیں، کیپیٹل ایمرجنسی سروس کی ایمبولینسیں اور اسلام آباد انتظامیہ کے اہلکار بھی موقع پر موجود تھے۔ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کیا گیا اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا گیا۔
پی آئی ایم ایس کے ترجمان کے مطابق آگ لگنے کے وقت وارڈ میں 15 نومولود موجود تھے۔ ان میں سے 14 شدید جھلسنے کے باعث بعد ازاں جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک نومولود کو زندہ بچا لیا گیا۔ جاں بحق بچوں کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے سیکریٹری صحت معطل کر دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واقعے میں ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کا حکم دیا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر اجلاس سے چلے جانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے جاں بحق نومولود بچوں کے والدین سے تعزیت بھی کی۔ انہوں نے کہا، ’’اس المناک واقعے پر میرا دل انتہائی غمگین ہے۔ ہم والدین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندانوں کو صبر عطا فرمائے۔‘‘
وزیراعظم آفس کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کمیٹی کے سربراہ جبکہ اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری ڈاکٹر بیرسٹر نبیل اعوان رکن مقرر کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے آگ لگنے کے بعد وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کو ہنگامی اجلاس کے لیے وزیراعظم ہاؤس طلب کیا تھا۔ انہوں نے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو فوری طور پر اسلام آباد پہنچنے، پی آئی ایم ایس کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لینے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
پی آئی ایم ایس آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ کمیٹی قائم
بعد ازاں وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس کے تحت اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری شاہد خان کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا، جبکہ ریٹائرڈ میجر جنرل ڈاکٹر خورشید اترا، ڈاکٹر بیرسٹر نبیل احمد اعوان اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو ارکان میں شامل کیا گیا۔
کمیٹی کو آگ لگنے کی فوری وجہ معلوم کرنے اور واقعات کی مکمل زمانی ترتیب مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کمیٹی اسپتال کے عملے، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کی جانے والی ہنگامی کارروائی اور امدادی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لے گی۔
کمیٹی نومولود بچوں، بالخصوص انتہائی نگہداشت کے ضرورت مند بچوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کے لیے ہنگامی معیاری طریقہ کار پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ پی آئی ایم ایس میں آگ سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ حفاظتی ضوابط کی پابندی کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔
تحقیقاتی کمیٹی واقعے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرنے، کسی بھی قسم کی غفلت کی نشاندہی کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انتظامی اصلاحات کی سفارشات بھی پیش کرے گی۔
نوٹیفکیشن میں درج ضوابط کے مطابق کمیٹی 48 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو عبوری رپورٹ پیش کرے گی، جس میں فوری اقدامات کے لیے سفارشات شامل ہوں گی۔ اس کے بعد پانچ روز کے اندر مکمل تحقیقات، نتائج اور قابلِ عمل سفارشات پر مشتمل جامع رپورٹ پیش کی جائے گی۔
وزارت قومی صحت کو تحقیقاتی کمیٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے اور اسے تمام ضروری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
چنگاری سے نرسری میں آگ لگی، ابتدائی رپورٹ
آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کی صبح ایک چنگاری سے آگ بھڑکی، جو تیزی سے پھیل گئی اور اس کے نتیجے میں نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
پی آئی ایم ایس کے ترجمان کی جانب سے شیئر کی گئی رپورٹ کے مطابق آگ 26 اگست 2026 کو صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر نرسری کے اندر چنگاری سے لگی۔ ہر انکیوبیٹر کے قریب موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ چند ہی لمحوں میں شدت اختیار کر گئی۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری کے اندر دو ڈاکٹر اور دو نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں۔ انہوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی عملے کو مدد کے لیے بلایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے بھی نومولود بچوں کو نکالنے کی کوشش کی اور بچوں کو بچانے کے لیے نرسری میں داخل ہونے کی دو کوششیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق صبح تقریباً 6 بج کر 39 منٹ پر ایک زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں چھت گر گئی۔ ڈیوٹی پر موجود عملہ نرسری سے ایک بچے اور ملحقہ کمرے سے چار بچوں سمیت تین ماؤں کو نکالنے میں کامیاب رہا۔
عملے نے اسی منزل پر موجود گائنی وارڈ کے مزید 73 مریضوں کو بھی چند ہی منٹوں میں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ پر قابو پانے کی کوشش میں دستیاب تمام حفاظتی آلات استعمال کیے گئے، جن میں 35 آگ بجھانے والے آلات بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت تمام ہنگامی راستے مکمل طور پر کھلے اور قابلِ استعمال تھے۔
ترجمان نے کہا، ’’ہماری دعائیں اور دلی ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ ہر انسانی جان قیمتی ہے اور ہر نومولود امید اور مستقبل کی علامت ہے۔‘‘
ترجمان نے مزید کہا کہ پی آئی ایم ایس کے ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر عملہ روزانہ انتہائی دباؤ میں جانیں بچانے کے لیے انتھک محنت کرتا ہے، جبکہ اس واقعے کی مختلف سطحوں پر شفاف تحقیقات جاری ہیں۔








