آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت انتباہ، غیر مجاز راستے سے آنے والے امریکی جنگی جہاز نشانہ بنیں گے

[post-views]
[post-views]

تہران: ایران کے سپریم لیڈر کے سینئر فوجی مشیر محسن رضائی نے پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں تہران کے مقرر کردہ راستے کے علاوہ کسی اور بحری راستے کی اجازت نہیں دے گا۔

محسن رضائی نے یہ ردِعمل ٹرمپ کے اس بیان پر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو “مکمل طور پر دوبارہ کھولنے” کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جبکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے پر بات ہوگی۔

پریس ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے کہا، “امریکہ نے (اسلام آباد) مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے انتظامات کو تسلیم کیا تھا، مگر بعد میں اس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ امریکہ نے نہ صرف مفاہمتی یادداشت توڑی بلکہ تنازع کو مقررہ ثالثی پینل کے سامنے پیش کیے بغیر حملے بھی کیے۔”

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اس مبینہ خلاف ورزی کا سخت جواب دیا۔

انہوں نے کہا، “مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے بعد 17 روزہ لڑائی میں ہم نے امریکہ کو شدید نقصان پہنچایا۔ ہم نے واضح کر دیا کہ ہمارے پاس میزائل بھی ہیں اور اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت بھی۔ اگر امریکہ غیر مجاز راستے سے اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں بھیجتا ہے تو ہم انہیں نشانہ بنائیں گے۔ ایران کے مقرر کردہ راستے کے علاوہ کسی اور راستے کو آبنائے ہرمز میں قائم نہیں ہونے دیں گے۔”

محسن رضائی کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور ان کا پہلا مرحلہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے پر مرکوز ہے۔

اوول آفس میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس حوالے سے پیش رفت منگل تک سامنے آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا، “آج یا کل ہمیں معلوم ہو جائے گا۔ معاملات بہت تیزی سے کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔ یہ کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں۔ ہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کر رہے ہیں، اور ممکن ہے کہ کل تک یہ مکمل طور پر کھل جائے۔ یہی پہلا مرحلہ ہے۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ ایران کی جوہری صلاحیت کے خاتمے پر مشتمل ہوگا۔

انہوں نے کہا، “دوسرے مرحلے میں ہم ایران کی جوہری صلاحیت پر بات کریں گے۔ زیادہ درست الفاظ میں، ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر محروم کرنا ہوگا۔ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور میں نے اس مؤقف میں کبھی تبدیلی نہیں کی۔”

اس سے قبل ٹرمپ موجودہ سفارتی کوششوں کو ایران کے لیے “آخری موقع” قرار دے چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر مجوزہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی تاکہ سفارت کاری کو موقع دیا جا سکے۔

ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایران پسِ پردہ مذاکرات کا خواہاں تھا، حالانکہ وہ عوامی سطح پر ان مذاکرات کی تردید کرتا رہا۔

تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس وقت واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کے دوطرفہ مذاکرات میں مصروف نہیں ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]