اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں تقریباً 66 ہزار افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں۔ مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان میں گزشتہ سات روز سے شدید گولہ باری اور دھماکوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی کے مطابق سرحد پار بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث شہری ہلاکتیں ہوئیں، بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو پہلے سے کمزور اور وسائل کی کمی کا شکار علاقوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
یہ حالیہ لڑائی دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ برسوں کی شدید ترین کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کارروائی پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں شروع کی، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنا ہے۔
دونوں جانب سے جانی نقصانات کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ لڑائی سے قبل ہی درجنوں اضلاع میں غذائی قلت سنگین تھی اور امدادی سرگرمیوں کی معطلی سے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں۔









