حکومتی نظام کے انتظامی شعبے کی اصلاح: پاکستان کو نظریاتی بحث سے عملی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہوگا

[post-views]
[post-views]

حکومتی نظام کے انتظامی شعبے کی اصلاح: پاکستان کو نظریاتی بحث سے عملی حکمرانی کی طرف بڑھنا ہوگا

حکومتی نظام کے انتظامی شعبے کی اصلاح ہمیشہ سے ہمارے ادارے کی دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔ اس موضوع پر مطالعے کے دوران ایک بنیادی سوال بار بار سامنے آتا ہے: ریاست کے لیے آئین اور قوانین بنانا اہم ہے، لیکن ان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیسے کیا جائے؟

امریکی سیاسی مفکر اور صدر ووڈرو ولسن نے عوامی انتظامیہ پر اپنی معروف تحریر میں اسی بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ آئین بنانا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے، لیکن اسے عملی طور پر چلانا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کا حقیقی امتحان معاشرے میں ہوتا ہے؛ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مختلف ثقافتی رویے، مفادات، طاقتور طبقات، ادارہ جاتی مزاحمت اور اشرافیائی غلبہ موجود ہوتے ہیں۔ اصل حکمرانی اسی مقام سے شروع ہوتی ہے۔

ریاست کی کامیابی کا بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات کیسے فراہم کی جائیں، عوامی خدمات کا معیار کیسے بہتر بنایا جائے، ریاستی اداروں کو زیادہ جواب دہ کیسے بنایا جائے اور نچلی سطح تک مؤثر حکمرانی کیسے پہنچائی جائے۔

ریپبلک پالیسی کی تحقیق کا ایک اہم مرکز یہی سوال رہا ہے۔ ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ پاکستان نے سیاست، نظریات اور مختلف فکری تنازعات پر بہت وقت صرف کیا ہے۔ اب ہمیں ایک زیادہ عملی سوال کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے: حکومت حقیقتاً کیسے چلائی جائے؟

ایک شخص قدامت پسند ہو، لبرل ہو، کسی مذہبی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو یا کسی دوسرے سیاسی نظریے کا حامی ہو، ریاستی انتظامیہ کے بنیادی تقاضے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ شہریوں کو تعلیم، صحت، امن و امان، انصاف، بنیادی سہولیات اور معاشی مواقع درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے جدید ریاست کا اصل امتحان صرف اس کے نظریاتی دعوے نہیں بلکہ اس کی حکمرانی، انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمات کی فراہمی ہے۔

پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی اصلاح

اسی تصور کو سامنے رکھتے ہوئے ریپبلک پالیسی نے “Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan” کے عنوان سے ایک جامع کتاب پیش کی ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی موضوع پاکستان کے انتظامی شعبے، بالخصوص سول سروس اور سول بیوروکریسی کی ساخت اور اصلاح ہے۔

ہمارا مقدمہ یہ ہے کہ پاکستان میں بیوروکریسی کا کردار محض سہولت کار تک محدود نہیں رہا بلکہ متعدد معاشی اور انتظامی معاملات میں وہ ایک دروازہ بان کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اجازت نامے، لائسنس، عدم اعتراض سرٹیفکیٹ اور مختلف انتظامی منظوریوں کا پیچیدہ نظام شہریوں اور کاروباری طبقے کو ریاستی مشینری پر غیر ضروری طور پر منحصر کرتا ہے۔

ریپبلک پالیسی کی ایک دوسری کتاب “The Bureaucratic Coup” میں بھی بیوروکریسی کے اسی دروازہ بان کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک کاروباری ادارہ قائم کرنے کے لیے کسی کاروباری شخص کو مختلف سرکاری محکموں سے متعدد اجازتیں حاصل کرنا پڑیں تو یہ محض ضابطہ کاری نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا اجازت نامہ جاتی نظام بن جاتا ہے جو کاروبار، سرمایہ کاری اور جدت کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے۔

ریاست کا کام کاروبار کو غیر ضروری اجازتوں میں الجھانا نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے معاشی سرگرمی کو آسان بنانا ہونا چاہیے۔

سول سروس کی اصلاح کے پانچ بنیادی اصول

“Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan” میں سول سروس کی اصلاح کے لیے پانچ بنیادی تصورات پیش کیے گئے ہیں۔

اول، تخصص پر مبنی انتظامیہ۔ جدید ریاست کو ہر شعبے میں عمومی نوعیت کے منتظمین پر انحصار کرنے کے بجائے متعلقہ شعبوں کی مہارت رکھنے والے منتظمین کی ضرورت ہے۔ صحت کے نظام کو صحت کے انتظامی ماہرین، تعلیم کو تعلیمی انتظامیہ کے ماہرین اور دوسرے پیچیدہ شعبوں کو متعلقہ پیشہ ورانہ صلاحیت رکھنے والے افراد کی قیادت درکار ہے۔ جدید حکمرانی کی پیچیدگی عمومی انتظامی تجربے سے آگے بڑھ چکی ہے۔

دوم، مرکزی اور وحدانی بیوروکریسی کے بجائے لچک دار انتظامی ڈھانچہ۔ پاکستان کو ایسی افرادی قوت درکار ہے جو بدلتی ہوئی حکومتی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔ بیوروکریسی کو مستقل طاقت کے ایک مرکزی ڈھانچے کے بجائے انسانی وسائل کے ایک پیشہ ورانہ نظام کے طور پر منظم کیا جانا چاہیے، جس کا بنیادی مقصد بہتر حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی ہو۔

سوم، مراعات کو مالی شکل دینا۔ سرکاری افسران کو رہائش، گاڑیوں اور دوسری غیر نقد مراعات کے پیچیدہ نظام کے بجائے مناسب اور مسابقتی نقد تنخواہیں دی جانی چاہییں۔ افسران اپنی رہائش اور دیگر ضروریات اپنی تنخواہوں سے پوری کریں۔ اس طریقۂ کار سے مراعات پر مبنی سرکاری ثقافت اور مفادات کے حصول کے امکانات کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

چہارم، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبائی سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن محکموں کی اصلاح۔ وفاق میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبوں میں متعلقہ انتظامی محکمے بیوروکریسی کے اہم اعصابی مراکز ہیں۔ تقرریوں، تبادلوں، ترقیوں اور سرکاری ملازمین کے کیریئر پر ان اداروں کا نمایاں اثر ہوتا ہے۔ روایتی فائل پر مبنی نظام میں بیوروکریسی کو معلومات، قواعد اور طریقۂ کار پر غیر معمولی گرفت حاصل ہوجاتی ہے۔ اس لیے ان اداروں کو روایتی فائل کنٹرول کے مراکز کے بجائے جدید، شفاف اور کارکردگی پر مبنی انسانی وسائل کے اداروں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

پنجم، سیاسی انتظامیہ کی مؤثر بالادستی اور جواب دہی۔ آئین کے تحت منتخب سیاسی قیادت کو ریاستی انتظام چلانے کا اختیار حاصل ہے اور بیوروکریسی کو اسی آئینی و قانونی نظام کے اندر کام کرنا چاہیے۔ سیاسی انتظامیہ کا کام محض بیوروکریسی کے فیصلوں کی توثیق نہیں بلکہ پالیسی بنانا، ترجیحات متعین کرنا، کارکردگی کا جائزہ لینا اور انتظامی مشینری کو جواب دہ بنانا ہے۔ تاہم یہ اختیار بھی آئین، قانون، شفافیت اور جواب دہی کی حدود کے اندر استعمال ہونا چاہیے۔

پاکستان کو اب عملی حکمرانی پر بات کرنا ہوگی

پاکستان میں انتظامی اصلاح کو محض سول سروس کے قواعد، تقرریوں اور تبادلوں کی بحث تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاست شہری کے لیے کتنی مؤثر ہے؟

کیا ایک عام شہری کو بنیادی سرکاری خدمت حاصل کرنے کے لیے سفارش کی ضرورت ہے؟ کیا ایک کاروباری شخص کو اپنی معاشی سرگرمی شروع کرنے کے لیے غیر ضروری سرکاری اجازتوں کے طویل سلسلے سے گزرنا پڑتا ہے؟ کیا ایک سرکاری ادارے کی کامیابی اس کی فائلوں اور قواعد سے ناپی جاتی ہے یا عوام کو فراہم کیے جانے والے نتائج سے؟

یہی وہ سوالات ہیں جنہیں پاکستان کی انتظامی اصلاح کا مرکز بننا چاہیے۔

ہم طلبہ، پالیسی سازوں، محققین، سول سرونٹس اور حکمرانی کے ماہرین کو “Fixing the Executive Branch of Government in Pakistan” کے مطالعے کی دعوت دیتے ہیں۔ تقریباً 616 صفحات پر مشتمل یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو پاکستان کے انتظامی نظام کو تاریخ، نظریاتی تعصبات اور روایتی بیانیوں سے آگے بڑھ کر عملی، قابلِ نفاذ اور نتیجہ خیز اصلاحات کے تناظر میں سمجھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کو صرف اس سوال کا جواب نہیں چاہیے کہ ریاست کیسی ہونی چاہیے؛ اب زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ریاست کو مؤثر طریقے سے چلایا کیسے جائے۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں: 0341-4222501

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]