اصل مسئلہ ’’برین روٹ‘‘ نہیں ہے

[post-views]
[post-views]

ہر نسل کو کسی نہ کسی مرحلے پر یہ خدشہ لاحق رہا ہے کہ نئی نسل کی ذرائع ابلاغ سے متعلق عادات نوجوان ذہنوں کو تباہ کر رہی ہیں۔ کبھی بچوں میں بگاڑ کا ذمہ دار مزاحیہ رسالوں کو ٹھہرایا گیا۔ پھر ٹیلی ویژن پر الزام لگا کہ وہ بچوں کو سست اور غیر فعال بنا رہا ہے۔ ویڈیو گیمز اور ریپ موسیقی کو پرتشدد رویوں سے جوڑا گیا، جبکہ بعد میں انٹرنیٹ کے بارے میں یہ خوف پیدا ہوا کہ نوجوان تنہائی کا شکار ہوجائیں گے اور خطرناک اجنبیوں سے رابطے میں آئیں گے۔

آج یہی تشویش ایک نئی اصطلاح ’’برین روٹ‘‘ کے گرد گھوم رہی ہے۔

یہ اصطلاح اس عجیب ذہنی کیفیت کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور اسی نوعیت کے دیگر ذرائع پر مختصر، بے معنی اور انتہائی محرک ویڈیوز مسلسل دیکھنے سے وابستہ ہے۔ ناچتے ہوئے کافی کے کپ، گاتے ہوئے بیت الخلا، پٹھوں والے پھل، تیزی سے چمکتی تصاویر، بے معنی آوازیں اور لمحہ بہ لمحہ بدلتے بصری اثرات ایک ایسی آن لائن ثقافت کا حصہ بن چکے ہیں جو بظاہر جان بوجھ کر بے معنی بنائی گئی محسوس ہوتی ہے۔

باہر سے دیکھنے پر نتیجہ بہت سادہ دکھائی دیتا ہے: نوجوان بے معنی مواد دیکھ رہے ہیں اور یہی مواد ان کے ذہنوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

لیکن ممکن ہے حقیقت اس کے برعکس ہو۔

انسانی رویوں پر ڈیجیٹل ماحول کے اثرات سے متعلق تحقیق بتاتی ہے کہ نوجوان اکثر اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں کہ مسلسل اسکرولنگ ان کے ساتھ کیا کر رہی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں مصنف اور شریک مصنفہ اینا گوٹزفریڈ نے 13 سے 26 سال کی عمر کے نوجوانوں سے گفتگو کی تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ وہ برین روٹ کو کیسے محسوس کرتے ہیں، ایسا مواد کیوں دیکھتے ہیں اور اس کا ان کے لیے کیا مطلب ہے۔

ان گفتگوؤں سے ایک اہم حقیقت سامنے آئی۔ یہ نوجوان اپنے رویے کے نتائج سے بے خبر محض غیر فعال صارفین نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے اچھی طرح سمجھتے تھے کہ مسلسل اسکرولنگ ان کی توجہ، ذہنی کیفیت اور اپنی پسند کا مواد منتخب کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔ وہ مسئلے کو پہچانتے تھے اور بہت سے اس سے نکلنا بھی چاہتے تھے۔

یہ نتیجہ برین روٹ کو سمجھنے کا زاویہ بدل دیتا ہے۔

عام تصور یہ ہے کہ نوجوان کم معیار کا مواد دیکھتے ہیں اور اسے مسلسل دیکھنے سے ان کی ذہنی کیفیت بتدریج خراب ہوجاتی ہے۔ لیکن تحقیق میں شریک نوجوانوں نے تقریباً اس کے برعکس تجربہ بیان کیا۔ برین روٹ کی ذہنی کیفیت اکثر انتہائی بے مقصد مواد کے مسلسل استعمال سے پہلے ہی پیدا ہونے لگتی ہے۔

خودکار نظام کے ذریعے منتخب مواد کو طویل عرصے تک اسکرول کرنے کے بعد صارف ایک ایسی دھندلی اور ذہنی طور پر غیر فعال کیفیت میں داخل ہوسکتا ہے جہاں اس کی انتخاب کرنے کی صلاحیت کم ہونے لگتی ہے۔ وہ شعوری طور پر یہ فیصلہ کرنے کے بجائے کہ کس چیز کو اپنی توجہ دینی ہے، اسکرین پر آنے والا اگلا مواد بس دیکھتا چلا جاتا ہے۔ ایک ویڈیو خود بخود دوسری ویڈیو تک لے جاتی ہے۔

اس مرحلے پر عجیب اور بے معنی ویڈیوز ضروری نہیں کہ اس ذہنی کیفیت کو ابتدا سے پیدا کر رہی ہوں۔ بلکہ وہ اس کیفیت کو مزید تقویت دے رہی ہوتی ہیں جسے خود اس ڈیجیٹل نظام کی ساخت پیدا کرنے میں مدد دے چکی ہوتی ہے۔

یہ فرق اہم ہے، کیونکہ اس سے بحث انفرادی ویڈیوز سے ہٹ کر اس پورے ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل ہوجاتی ہے جس میں یہ مواد استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے ذرائع انسانی توجہ حاصل کرنے کی مسلسل مسابقت پر قائم ہیں۔ لاکھوں ویڈیوز، مواد تخلیق کرنے والے افراد اور مشتہرین ایک محدود چیز کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں: صارف کی توجہ۔ جو مواد توجہ حاصل نہیں کرتا وہ جلد نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے، جبکہ لوگوں کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے والے مواد کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے۔

اس مسابقت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آن لائن مواد مختصر، تیز، بلند آواز اور بصری طور پر زیادہ شدید ہوتا جاتا ہے۔ اسے چند لمحوں میں صارف کی توجہ حاصل کرنا ہوتی ہے، کیونکہ صارف ایک انگلی کے اشارے سے اسے چھوڑ سکتا ہے۔ پیچیدگی نقصان بن جاتی ہے، جبکہ نیا پن، تکرار، حیرت، مزاح اور فوری ذہنی تحریک زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں سادہ مواد کو ایک بنیادی برتری حاصل ہوتی ہے: ذہنی طور پر تھکے ہوئے شخص کے لیے اسے دیکھنا آسان ہوتا ہے۔

اس لیے اصل مسئلہ ان ذرائع کے معاشی نظام میں پوشیدہ ہے۔

سماجی ذرائع ابلاغ کی کمپنیاں انسانی توجہ سے پیسہ کماتی ہیں۔ صارف جتنا زیادہ وقت ان کے ذرائع پر گزارتا ہے، اشتہارات دکھانے، اس کے رویے سے متعلق معلومات جمع کرنے اور آمدن حاصل کرنے کے اتنے ہی زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ یوں انسانی توجہ ایک ذاتی ذہنی صلاحیت کے بجائے ایک معاشی شے بن جاتی ہے۔

کسی صارف کو انتہائی بامعنی، فکری یا تعلیمی مواد ملنے سے ضروری نہیں کہ متعلقہ کمپنی کو فائدہ ہو۔ اس کا اصل فائدہ اس وقت ہے جب صارف دیکھتا رہے۔

یہاں صارف اور ڈیجیٹل کمپنی کے مفادات کے درمیان بنیادی تضاد پیدا ہوتا ہے۔ ایک شخص شاید صرف 20 منٹ آن لائن گزارنا چاہتا ہو اور اس کے بعد پڑھائی، مطالعے، کام، ورزش یا نیند کی طرف واپس جانا چاہے۔ لیکن متعلقہ کمپنی کو معاشی فائدہ اس وقت زیادہ ہوگا جب یہی 20 منٹ دو گھنٹوں میں تبدیل ہوجائیں۔

اسی لیے خودکار نظام صارف کی مصروفیت بڑھانے کے گرد تشکیل دیے جاتے ہیں۔ وہ سیکھتے ہیں کہ کون سا مواد کسی شخص کو زیادہ دیر تک دیکھنے پر مجبور کرتا ہے اور پھر اسی نوعیت کا مزید مواد اس کے سامنے لاتے ہیں۔ ہر بار انگلی سے اسکرین بدلنے کا عمل صارف کی پسند اور رویے کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے نظام یہ اندازہ لگانے میں مزید مؤثر ہوتا جاتا ہے کہ کون سی چیز چند سیکنڈ مزید اس کی توجہ روک سکتی ہے۔

برین روٹ اسی ماحول میں جنم لیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان اپنی ذرائع ابلاغ سے متعلق عادات کے ذمہ دار نہیں، اور نہ ہی ہر مختصر ویڈیو نقصان دہ ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ایک فرد کا ضبطِ نفس ایسے نظام کے مقابل کھڑا ہے جس کی ساخت ہی صارف کو زیادہ دیر تک مصروف رکھنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

اسی لیے نوجوانوں کو صرف یہ کہنا کہ ’’اسکرولنگ بند کردو‘‘ مسئلے کا بڑا حصہ نظرانداز کردیتا ہے۔

بہت سے نوجوان پہلے ہی جانتے ہیں کہ وہ ضرورت سے زیادہ اسکرول کر رہے ہیں۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ایک گھنٹہ گزر چکا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اب وہ اس مواد سے لطف بھی نہیں اٹھا رہے۔ انہیں یہ بھی محسوس ہوسکتا ہے کہ بعد میں وہ ذہنی طور پر تھک چکے ہیں۔ اس کے باوجود وہ دیکھتے رہتے ہیں، کیونکہ ڈیجیٹل ماحول نے غیر فعال انداز میں مواد استعمال کرتے رہنا انتہائی آسان بنا دیا ہے۔

اس زاویے سے دیکھا جائے تو برین روٹ ذہنی یا فکری زوال کی علامت کم اور ذہنی دباؤ کی ایک صورت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

بے معنی ویڈیوز دراصل ایک گہرے مسئلے کی ظاہری شکل ہیں: ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو توجہ کی معیشت کے اندر زندگی گزار رہی ہے۔ یہ معیشت مسلسل اس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کرتی ہے، لیکن اسی وقت اپنی توجہ کی حفاظت کی پوری ذمہ داری بھی فرد ہی پر ڈال دیتی ہے۔

اس لیے مناسب ردعمل نوجوانوں اور ان کے مبینہ ذہنی زوال کے بارے میں ایک اور اخلاقی خوف پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ گزشتہ نسلیں بھی ایسی تفریح استعمال کرتی رہی ہیں جسے ان سے بڑی نسلیں سمجھنے سے قاصر تھیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آج کا ڈیجیٹل ماحول بنیادی طور پر مختلف ہے؟ آج یہ نظام انسانی رویے کا مسلسل مشاہدہ کرسکتا ہے، فوری طور پر ہر فرد کے مطابق مواد منتخب کرسکتا ہے اور خود کو اس طرح بہتر بنا سکتا ہے کہ صارف زیادہ سے زیادہ دیر تک اس کے ساتھ وابستہ رہے۔

اگر مسئلہ یہ ہے تو اس کا حل صرف ذاتی ضبط پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ڈیجیٹل شعور، صحت مند عادات اور آگاہی یقیناً اہم ہیں، لیکن خود ان ذرائع کے معاشی مفادات، خودکار نظاموں اور ان ساختی فیصلوں کا جائزہ بھی ضروری ہے جو مسلسل اسکرولنگ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

والدین، اساتذہ، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عجیب و غریب ویڈیوز کی مذمت کرنے کے بجائے اس نظام کو سمجھنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے جو مسلسل اسکرولنگ کو چھوڑنا اتنا مشکل بناتا ہے۔

جب نوجوان خود اپنے ذہن کی کیفیت کو ’’برین روٹ‘‘ کہتے ہیں تو شاید وہ ہمیں ایک اہم بات بتا رہے ہوتے ہیں۔ اسے محض انٹرنیٹ کا ایک اور مذاق سمجھ کر مسترد کرنے کے بجائے ہمیں یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ اس اصطلاح کے پیچھے اصل پیغام کیا ہے۔

برین روٹ شاید اس بات کا ثبوت نہیں کہ ایک نسل نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ ممکن ہے یہ اس نسل کا یہ بتانے کا طریقہ ہو کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی توجہ پر اختیار برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جارہا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]