اسلام آباد: حکومت نے جمعرات کے روز پاکستان تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کو دی گئی پیشکش بدستور برقرار ہے۔ حکومت نے اس دیرینہ تنازع پر لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات اپوزیشن کی تجویز کردہ جگہ پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق اور تحریک انصاف کے چیف وہپ عامر ڈوگر کے درمیان ملاقات کے بعد سامنے آئی۔ بعد ازاں وزیرِ مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے تحریک انصاف اور قائدِ حزبِ اختلاف کو مذاکرات کی پیشکش اب بھی مؤثر ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لے، کیونکہ سیاسی مسائل کا واحد حل بامعنی مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت اپوزیشن کی پسند کے مقام پر بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان یوسفزئی نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عامر ڈوگر نے انہیں اسپیکر سے ہونے والی ملاقات پر اعتماد میں لیا۔ ان کے مطابق ملاقات میں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کا شیڈول، حکومت کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش اور اسپیکر کی یہ درخواست زیرِ بحث آئی کہ اپوزیشن پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئے۔
یوسفزئی نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد نے واضح کر دیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کیا تھا، لہٰذا اس فیصلے میں تبدیلی کا اختیار بھی صرف انہی کے پاس ہے۔ ان کے بقول اتحاد کی قیادت ازخود یہ فیصلہ تبدیل نہیں کر سکتی۔
مذاکرات کے مقام کا معاملہ رواں سال کے آغاز سے دونوں فریقوں کے درمیان تعطل کی ایک بڑی وجہ رہا ہے۔ حکومت پہلے وزیرِ اعظم ہاؤس میں مذاکرات کی خواہاں تھی، تاہم تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اصرار کیا تھا کہ بات چیت صرف پارلیمنٹ کے اندر ہونی چاہیے۔ طارق فضل چوہدری کا تازہ بیان اس معاملے پر حکومت کی اب تک کی سب سے بڑی لچک قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی پیشکش پر ردِعمل دیتے ہوئے یوسفزئی نے کہا کہ اگر حکومت چند ماہ قبل ہی اپوزیشن کے مؤقف کو تسلیم کر لیتی تو مذاکرات کا تعطل پیدا نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس سے پہلے اپوزیشن رہنماؤں کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “اپنے قائد سے مشاورت کیے بغیر ہم حکومت سے مذاکرات کیسے کر سکتے ہیں؟” ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات اعتماد سازی کا ایک اہم اقدام ثابت ہوگی، جس کے ذریعے مذاکراتی ایجنڈے اور موجودہ سیاسی صورتحال پر ان کی رہنمائی حاصل کی جا سکے گی۔
یوسفزئی نے مزید کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی اپنا مذاکراتی ایجنڈا حکومت کو دے چکی ہے اور مجوزہ بات چیت کا مقصد کسی قسم کی اقتدار میں شراکت نہیں بلکہ ملک کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کی حمایت یافتہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے رواں سال عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے باضابطہ اختیار دے رکھا ہے۔









