دنیا کا ہر تیسرا فرد صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اقوام متحدہ کی رپورٹ

[post-views]

[post-views]

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک شخص صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا، جس کے بعد خوراک کی دستیابی اور استطاعت کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کے مطالبات ایک بار پھر زور پکڑ گئے ہیں۔

پانچ اقوام متحدہ کے اداروں کی مشترکہ سالانہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 2.69 ارب افراد ایسی متوازن غذا خریدنے سے قاصر ہیں جو جسم کی توانائی اور غذائی ضروریات پوری کر سکے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ 2030 تک دنیا سے بھوک کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے ابھی بھی “بہت بڑے پیمانے پر کام” درکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں مسلسل تیسرے سال عالمی بھوک میں کمی آئی اور دنیا کی 7.8 فیصد آبادی اس کا شکار رہی، جو 2024 میں 8.1 فیصد تھی۔ افریقہ میں بھی کئی برسوں سے جاری بھوک میں اضافے کا رجحان پہلی مرتبہ سست پڑتا دکھائی دیا۔ اس کے باوجود، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے کہا کہ صحت بخش غذا خریدنے سے محروم افراد کی تعداد اب بھی “انتہائی تشویشناک” حد تک زیادہ ہے۔

اسٹیٹ آف فوڈ سکیورٹی اینڈ نیوٹریشن اِن دی ورلڈ 2026 رپورٹ کے مطابق ایک صحت بخش غذا کی یومیہ لاگت 4.28 پرچیزنگ پاور پیریٹی (PPP) ڈالر ہے، یعنی ہر ملک میں اتنی مقامی کرنسی جو امریکی معیشت میں 4.28 ڈالر کی قوتِ خرید کے برابر ہو۔ ٹوریرو نے نشاندہی کی کہ یہ لاگت 3 پی پی پی ڈالر کی انتہائی غربت کی عالمی حد سے کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ حکومتی پالیسیوں کو قرار دیا، جو عموماً گوشت، دودھ، پھل اور سبزیوں کے بجائے صرف اناج اور نشاستہ دار غذاؤں پر سبسڈی دیتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسی پالیسیاں لوگوں کو کیلوریز تو فراہم کرتی ہیں، مگر متوازن غذا نہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپا، ذیابیطس اور کینسر جیسی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ بالغ افراد میں موٹاپے کی شرح 2012 میں 12.1 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 16.2 فیصد ہو چکی ہے۔

ٹوریرو نے زرعی انفراسٹرکچر، تحقیق اور ترقی میں زیادہ سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنایا جائے تو گوشت، دودھ، پھل اور سبزیوں کی قیمتیں کم کی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنے والی نئی پالیسیاں خوراک سے متعلق بیماریوں کے معاشی بوجھ کو بھی کم کر سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پہلی مرتبہ افریقہ بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد کے لحاظ سے ایشیا سے آگے نکل گیا ہے۔ افریقہ میں تقریباً 309 ملین جبکہ ایشیا میں 292 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں۔ 2025 میں افریقہ کی 66.6 فیصد آبادی صحت بخش غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی، جو ایشیا اور لاطینی امریکہ و کیریبین کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔

ٹوریرو نے وضاحت کی کہ اس تبدیلی کی بڑی وجہ افریقہ میں تیز رفتار آبادی میں اضافہ ہے، نہ کہ حالات کا مزید خراب ہونا۔ ان کے مطابق کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ افریقہ میں بھوک کی شرح میں کمی کے آثار سامنے آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ اعداد و شمار بیرونی امداد میں حالیہ کٹوتیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری تجارت میں رکاوٹوں کے اثرات کو شامل نہیں کرتے، جو آئندہ برس صورتحال کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، یونیسیف، عالمی خوراک پروگرام (WFP) اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (IFAD) نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]