حکومت کی شکل سے زیادہ اہم گورننس کا معیار ہے

[post-views]

[post-views]

جدید دور نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت کی شکل خواہ کچھ بھی ہو—جمہوری، فوجی، ہائبرڈ یا کسی مرکزی سیاسی جماعت پر قائم نظام—عوامی اطمینان کا بنیادی پیمانہ بالآخر گورننس اور خدمات کی فراہمی ہے۔ چین جیسے مرکزی نظام میں بھی شہری سطح کی حکومتیں خدمات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ عوام کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ ریاست انہیں تعلیم، صحت، روزگار، کاروباری سہولت، آزادی اور دیگر بنیادی خدمات کس حد تک مؤثر انداز میں ان کی دہلیز تک پہنچاتی ہے۔ اس اعتبار سے موجودہ دور محض نظریاتی مباحث کا نہیں بلکہ عملی گورننس کا دور ہے۔

ریپبلک پالیسی تھنک ٹینک گورننس کو محض ایک علمی موضوع کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ اسے معاشرے کے ساتھ مربوط کرکے سمجھتا ہے۔ ہمارے نزدیک پاکستان کے گورننس مسائل صرف سیاسی چہروں یا حکومتوں کی تبدیلی سے حل نہیں ہوسکتے۔ سیاسی قیادت نظام کا ایک حصہ ہے، جبکہ ریاست کی روزمرہ کارکردگی کا بڑا حصہ انتظامیہ، مقننہ اور مستقل بیوروکریسی کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ جب تک اس پورے ادارہ جاتی ڈھانچے کی اصلاح نہیں ہوگی، محض سیاسی تبدیلی گورننس کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کرسکتی۔

اس نظام میں بیوروکریسی بنیادی طور پر نفاذ کی مشینری ہے۔ عدلیہ فیصلہ دیتی ہے، مگر اس پر عمل درآمد انتظامیہ کرتی ہے۔ مقننہ قانون بناتی ہے، مگر اسے عملی شکل بھی انتظامی ادارے دیتے ہیں۔ اگر بیوروکریسی فیصلوں پر مؤثر عمل نہ کرے، فائلوں اور معلومات کے بہاؤ کو متاثر کرے یا درست اعداد و شمار فراہم نہ کرے تو بہترین قانون اور عدالتی فیصلہ بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔

اسی لیے ریپبلک پالیسی کا بنیادی مؤقف ہے کہ پاکستان میں بہتر گورننس سول سروس اور بیوروکریسی کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی مقدمے کو ہماری کتاب The Bureaucratic Coup میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے ریپبلک پالیسی کی ویب سائٹ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]