پاکستان کے شہروں کا زوال

[post-views]
[post-views]

پاکستان کے شہر معاشی ترقی، ثقافتی تنوع اور تخلیقیت کے بنیادی مراکزی ہونے کے بجائے انتظامی ابتری اور بے ہنگم پھیلاؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے جدید شہروں میں ایک مخصوص “مرکزِ شہر” (ڈاؤن ٹاؤن) ہوتا ہے جہاں تجارتی، تفریحی، تعلیمی اور رہائشی سرگرمیاں ایک ساتھ، پیدل چلنے کے قابل ماحول میں میسر ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان کے کسی بھی شہر میں ایسا مربوط ڈاؤن ٹاؤن موجود نہیں ہے۔

اس وقت پاکستان کے بڑے شہروں میں تعلیم، تفریح، دفاتر، تجارتی مراکز اور درمیانے و غریب طبقے کی رہائش کے لیے شدید طلب موجود ہے، لیکن بدقسمتی سے ان مقاصد کے لیے مخصوص عمارات اور جگہیں فراہم ہی نہیں کی گئیں۔ ہمارے منصوبہ سازوں نے شہروں کا سارا زوننگ نظام صرف بڑے رہائشی مکانات (پلاٹوں) تک محدود کر دیا ہے۔ فللیٹس اور عمودی عمارتوں کی اجازت نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے اور نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے رہائش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

شہری انتظامیہ کا کام صرف سڑکیں اور نالیاں بنانا نہیں ہوتا، بلکہ شہر میں سماجی، ثقافتی اور فکری ماحول فراہم کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستانی شہروں میں عام شہریوں کے لیے نہ تو لائبریریاں ہیں، نہ کمیونٹی سینٹرز، نہ تھیٹر اور نہ ہی کھیل کے میدان—جو چند کھیل کے میدان موجود ہیں، وہ صرف اشرافیہ تک محدود ہیں۔

اس بدانتظامی کے پسِ منظر میں درج ذیل بنیادی ساختی نقائص نمایاں ہیں:

  • غیر متوازن زوننگ اور کرائے داری کی سیاست: زمین کے استعمال کے قوانین کاروباری سرگرمیوں کے بجائے صرف بڑے مکانات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تجارتی منظوری حاصل کرنے کا طریقہ کار انتہائی دشوار اور مہنگا ہے، جس کی وجہ سے جائیداد کی ترقی محض من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
  • سرکاری اور عسکری تسلط: شہروں کی سب سے قیمتی اور مرکزی زمینوں پر حکومت اور بالخصوص عسکری اداروں کا قبضہ ہے۔ تجارتی اور مخلوط استعمال (مکسڈ یوز) کے لیے مرکزی زمین کی شدید قلت ہے کیونکہ یہ تمام رقبہ غیر پیداوری سرکاری مقاصد کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔
  • وسائل کا ضیاع: قیمتی شہری زمین کا غلط استعمال شہر کے مالی وسائل کو مفلوج کر رہا ہے۔ ہوٹل، شاپنگ مالز اور کنونشن سینٹرز جیسی معیاری تعمیرات کو رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ کھیل کے اسٹیڈیمز کی مثال لاہور کا فورٹریس اسٹیڈیم ہے، جہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے بجائے دیواروں کے ساتھ دکانیں بنا کر اس کی اصل ہیئت ہی ختم کر دی گئی ہے۔
  • بے ہنگم پھیلاؤ (اربن اسپرال): شہر کے مراکز میں گنجان اور عمودی تعمیرات کو ناپسندیدہ سمجھے جانے کے باعث شہر بے ہنگم انداز میں دور دراز علاقوں تک پھیل رہے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی زرعی زمینیں تباہ ہو رہی ہیں بلکہ نقل و حمل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos
[youtube-feed feed=2]