کراچی — کراچی کے علاقے قیوم آباد میں اٹھارہ ماہ کی کمسن بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل کے واقعے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شوبز سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف شخصیات نے اس اندوہناک سانحے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری انصاف، سخت قانونی کارروائی اور بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے والد کی درج کرائی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی کو ایک قریبی رشتہ دار کھانا خریدنے کے بہانے گھر سے باہر لے گیا۔ کچھ دیر بعد واپس آنے پر بچی بے ہوش حالت میں ملی، جسے پہلے ایک نجی اسپتال اور بعد ازاں جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔
پولیس نے واقعے کے بعد خاندان کے ساتھ رہنے والے سترہ سالہ رشتہ دار کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے خلاف زیادتی اور قتل کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
اس افسوسناک واقعے پر فنونِ لطیفہ اور شوبز سے وابستہ معروف شخصیات نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
اداکار عدنان صدیقی نے کہا کہ مقتولہ اور ملزم دونوں کی کم عمری اس سانحے کو مزید ہولناک بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے پر ’’شدید صدمے، غصے اور دکھ‘‘ کا شکار ہیں اور مطالبہ کیا کہ ملزم کو فوری اور سخت ترین قانونی سزا دی جائے۔
اداکارہ عائشہ عمر نے کہا کہ معاشرہ اخلاقی زوال کی بدترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول، اب وقت آ گیا ہے کہ پورا معاشرہ بچوں کے ساتھ ہونے والے جرائم کی بنیادی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور ان کے خاتمے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔
صنم بلوچ نے کہا کہ ایک ماں ہونے کے ناطے وہ متاثرہ خاندان کے کرب کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے ہر بچے کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
اداکاراؤں سرحا اصغر اور ژالے سرحدی نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا۔ سرحا اصغر نے کہا کہ ملک میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات انتہائی تشویش ناک ہیں اور ان کا مستقل تدارک ناگزیر ہو چکا ہے۔
حالیہ مہینوں میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے پرتشدد جرائم کے تناظر میں اس واقعے نے ایک بار پھر ملک بھر میں بچوں کے تحفظ کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد، مقدمات کے فوری فیصلوں اور عوامی آگاہی کے جامع پروگراموں کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔









