امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق یورپی یونین ایران کے خلاف امریکا کی قیادت میں جاری اقتصادی دباؤ کی مہم میں شامل ہوگئی ہے، جسے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد تہران کو اپنے جوہری اور ہتھیاروں کے پروگراموں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے اور ان گروہوں کی معاونت سے روکنا ہے جنہیں واشنگٹن دہشت گرد تنظیموں کے آلہ کار قرار دیتا ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ عالمی برادری تہران کو واضح پیغام دے رہی ہے کہ ایران کے باقی ماندہ مالیاتی ذرائع منقطع کرنے کی کوششوں کے ساتھ اس پر اقتصادی دباؤ بھی جاری رہے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عالمی توجہ آبنائے ہرمز کی سلامتی پر بھی مرکوز ہے۔
جنوبی کوریا اس اہم آبی گزرگاہ میں سکیورٹی اقدامات میں تعاون کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم سیئول کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ شمولیت سے ملک کی اپنی دفاعی تیاری متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ حکومت ایسی صورت میں تعاون پر غور کر سکتی ہے جب اس سے ملک کی دفاعی تیاری متاثر نہ ہو۔ اس معاملے کا ابھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاہم آسٹریلوی نشریاتی ادارے ایس بی ایس نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی کوریا کی فوج نے ممکنہ تعیناتی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ طور پر پی ایٹ سمندری نگرانی کے طیارے، دھماکا خیز مواد ناکارہ بنانے والی ٹیم اور رسد فراہم کرنے والا بحری جہاز اس مقصد کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کے مطابق ممکنہ اڈوں، بندرگاہوں اور عملی سہولیات کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے ساتھ بات چیت بھی جاری ہے۔
سیئول اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی آبنائے ہرمز میں اپنی افواج بھیجنے پر غور کرے گا۔
اس معاملے نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں حصہ نہ لینے پر جنوبی کوریا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ واشنگٹن نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے ساتھ ایک مشترکہ فوجی مشق کا حجم بھی کم کر دیا تھا۔
آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کی کسی بھی فوجی تعیناتی کے لیے متعدد داخلی قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنا ضروری ہوں گے۔ ان میں قومی سلامتی کونسل میں معاملے کا جائزہ، کابینہ کی منظوری اور قومی اسمبلی کی رضامندی شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آبنائے ہرمز علاقائی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بنی ہوئی ہے۔ جاری تنازع کے باعث بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی، عالمی توانائی کی فراہمی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔









