وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ مذاکرات سودمند ثابت نہیں ہوتے جن کے پاس فیصلے کرنے کا اختیار ہی موجود نہ ہو۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات میں حقیقی پیش رفت تب ہی ممکن ہے جب بات چیت اُن لوگوں سے ہو جو عملی طور پر فیصلے کر سکتے ہوں۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جب تمام جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آئیں اور انتخابی سرگرمیوں کے لیے ایک حقیقی اور منصفانہ ماحول تشکیل دیا جائے۔ ان کے بقول اگر سب فریقوں کو برابر کا میدان مل جائے تو سیاسی کشیدگی کم ہو سکتی ہے اور معاملات بہتر سمت میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں اپنی جماعت کے قائد تک رسائی درکار ہو تو احتجاج ہی واحد راستہ بچتا ہے، کیونکہ موجودہ حالات میں کوئی باقاعدہ راستہ یا اجازت موجود نہیں۔ سہیل آفریدی نے یہ بھی کہا کہ احتساب کے معاملے میں وہ کسی قسم کی رعایت کے قائل نہیں، یہاں تک کہ اگر اُن کا اپنا بھائی بھی کسی بدعنوانی میں ملوث نکلے تو اسے سزا ملنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ پارٹی کے بانی سے ملاقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور کروائی گئی، اعلیٰ عدلیہ کو خطوط ارسال کیے گئے اور ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی گئی، مگر اس کے باوجود پیش رفت محدود رہی۔ ان کے مطابق اگرچہ پارٹی کے بانی نے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان افراد کے پاس حتمی اختیار موجود نہیں۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی شکایت کی کہ جب بھی وہ اڈیالہ جا کر بات کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو مختلف نوٹسز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کبھی ایف آئی اے کی جانب سے اور کبھی الیکشن کمیشن کی جانب سے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جلسے کے بعد انہیں الیکشن کمیشن نے طلب کیا مگر دوسری سیاسی رہنماؤں کے خلاف اسی نوعیت کے معاملات پر کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا، جو عدم توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال پر بھی سوال اٹھایا کہ جب لاہور میں ضمنی انتخاب جاری ہے تو اس دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کر رہی ہیں، جو انتخابی ماحول میں برابری کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق تمام اداروں کو چاہیے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔











