خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کو سیاسی دہشت گردی کے رویوں کا حامل قرار دے دیا

[post-views]
[post-views]

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کی گفتگو میں شہداء کی عزت تک محفوظ نہ رہے، وہ شکایت کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں رکھتے۔ اُن کے بقول ایسے عناصر کی پہچان پاکستان دشمنی ہے اور ان کا اس سرزمین سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زبان استعمال کی ہے۔

سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جنگ کے دوران ہمارے دوست اور بھائی ملک کے ساتھ ڈٹے رہے، لیکن ایک سیاسی جماعت نے، اُن کے مطابق، وہ کردار ادا نہیں کیا جو اسے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ہر معاملے پر بات کرتے ہیں، مگر ایسے نازک وقت میں وہ خاموش کیوں رہے؟ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران بھی بانی پی ٹی آئی کی زبان غیر ذمہ دارانہ رہی۔

اپنی گفتگو میں خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ ایسے لوگ خود کو پاکستانی کیسے کہہ سکتے ہیں؟ ان کے مطابق بھارت کے ساتھ کشیدگی کے وقت ملک کے اندر موجود بعض عناصر نے وہ کردار ادا نہیں کیا جو ذمہ دار شہریوں کا ہوتا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے جوانوں کے حق میں مؤثر آواز کیوں نہیں اٹھائی؟

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سیاست کرنی ہے تو احتجاج کیا جائے، تنقید بھی کی جائے، لیکن شہداء اور مجاہدین کے احترام کو کمزور نہ کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان یا دہشت گردوں کی حمایت میں آواز بلند کرنا کسی طور قابلِ قبول نہیں، نہ ہی انہیں مالی یا اخلاقی تعاون دینا درست ہے۔

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ سیاست اپنی جگہ لیکن ملک کی زمین اور غیرت کو للکارنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے رویّے اپنائے جائیں گے تو جواب میں سخت زبان ہی سننی پڑے گی۔

خواجہ آصف نے پی ٹی آئی چیئرمین کی بہن کے بھارتی میڈیا کو دیے گئے بیان پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کوئی محبِ وطن پاکستانی ایسی گفتگو کسی دشمن ملک کے میڈیا پر نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کسی پاکستانی کے لیے یہ رویہ مناسب سمجھا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos