خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے اور عوام کے مفاد میں مزاحمت کا عمل جاری رہے گا اور اسے ہر صورت برقرار رکھا جائے گا تاکہ اصول اور قانون کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ توشہ خانہ سے گاڑیاں حاصل کرنے والے افراد اقتدار میں ہیں، جبکہ وہ لوگ جو قانونی اور درست طریقے سے چیزیں لینے کے اہل ہیں، قید کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو عدالتی اور اخلاقی نقطہ نظر سے غیر متوازن اور تشویشناک قرار دیا۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے زور دیا کہ پائیدار اور دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور ہمہ گیر پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن قائم رکھنے کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عسکری عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر آ کر مشترکہ فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر تمام فریقین مل کر بیٹھیں اور مثبت حکمت عملی اپنائیں تو نہ صرف امن قائم ہوگا بلکہ معاشرتی استحکام، عوامی اعتماد اور قانون کی بالادستی بھی مضبوط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط پالیسی اور قومی اتفاق رائے ہی ملک میں دیرپا ترقی اور امن کی ضمانت ہے۔







