ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا دوبارہ فوجی آپشن اختیار کرنے کی کوشش کرے گا جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تو ایران ہر لحاظ سے تیار ہے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
عرب میڈیا سے گفتگو میں عراقچی نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات کسی قسم کی دھمکی یا زبردستی کے بغیر ہونے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران حقیقی مذاکرات چاہتا ہے جو دونوں فریقین کے مفادات کے احترام پر مبنی ہوں، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن فی الحال سنجیدہ اور منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور زبردستی کے بغیر معاملات حل کرنا ہی پائیدار امن اور خطے کی سلامتی کی ضمانت ہے۔
عراقچی کے بیان کے بعد عالمی میڈیا اور تجزیہ کاروں کی توجہ اس جانب مرکوز ہو گئی ہے کہ ایران کی جانب سے سخت موقف اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن کے لیے فوجی آپشن کو عملی جامہ پہنانا اب مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گا۔ ایران کے واضح مؤقف نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے اور علاقائی تنازعات میں کسی قسم کی یکطرفہ کارروائی کے خلاف ہے۔
ادھر، امریکی صدر کی ایران پر حملے کی دھمکیوں کے بعد امریکی فضائی سرگرمیاں قطر کے العدید بیس پر نمایاں طور پر تیز ہو گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی رات اس بیس سے متعدد جنگی طیارے پروازیں کرتے رہے، یہ طیارے خطے میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے سخت موقف اور امریکی فضائی کارروائیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ عالمی سیاسی اور اقتصادی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سفارتی کوششیں اور مذاکراتی ذرائع ہی خطے میں بڑے بحران سے بچانے کا واحد راستہ ہیں، تاہم دونوں فریقین کی طرف سے سخت موقف اس بات کا اشارہ ہے کہ امن قائم رکھنے کے لیے بڑے سطح کے سیاسی اور سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے۔












