غیرت کے نام پر قتل اب ناقابلِ معافی جرم ہوگا، ایسے مقدمات ریاست خود چلائے گی اور مجرم کو سزائے موت دی جائے گی۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کیا، جس میں تعزیراتِ پاکستان اور فوجداری قوانین میں ترامیم تجویز کی گئیں۔ بل کے تحت اشتعال، قابو کھونا یا اخلاقی غصہ قتل کا جواز نہیں ہوگا، جبکہ قتل پر اکسانے، مدد کرنے یا منظوری دینے والوں کو بھی عمر قید ہوگی۔ جرگوں کے ذریعے قتل پر اکسانا جرم قرار دیا گیا ہے، اور جرم نہ روکنے یا تفتیش میں غفلت پر سرکاری اہلکار کو پانچ سال تک قید اور جرمانہ ہوگا۔ بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اجلاس میں مسلم فیملی قوانین، آبادی و تولیدی صحت، الیکشن ایکٹ، ورچوئل اثاثہ جات اور اسلام آباد میٹرو بس سروس سے متعلق بل بھی پیش کیے گئے، جبکہ انسدادِ اسمگلنگِ تارکینِ وطن ترمیمی بل منظور کر لیا گیا۔












