ترجمان بلاول ہاؤس اور رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ترجمان بلاول ہاؤس کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال سیاسی طور پر عدم توازن کا شکار دکھائی دیتے ہیں، اور ایسے شخص کو وفاقی وزیر بنا دیا گیا جس کی سیاسی حیثیت اور فہم محدود ہے، اسی لیے نہ وہ زمینی حقائق سے جڑے ہیں اور نہ ہی ذمہ دارانہ گفتگو کے اہل ہیں۔
سریندر ولاسائی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کی سیاست نہ خودمختار ہے اور نہ ہی ان کی اپنی سوچ، وہ دوسروں کے سہارے سیاسی سفر طے کرنے والے ایک غیر سنجیدہ کردار ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حادثات کی بنیاد پر شہروں کو وفاق کے حوالے کرنا درست منطق ہوتی تو لاہور کب کا اسلام آباد کے ماتحت آ چکا ہوتا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ لاہور میں متعدد بڑے شاپنگ مالز میں بارہا آتشزدگی کے واقعات پیش آئے، مگر کبھی کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس بنیاد پر لاہور کو وفاق کے کنٹرول میں دے دیا جائے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر خدانخواستہ اسلام آباد میں بھی کسی نوعیت کا حادثہ پیش آ جائے تو کیا اسے بھی کسی اور کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
سریندر ولاسائی کے مطابق کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے جیسے بیانات دراصل تعصب، تقسیم، عدم استحکام اور تشدد پر مبنی سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجویز غیر آئینی، غیر منطقی اور ریاست مخالف سوچ کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام نہ کراچی کو سندھ سے الگ ہونے دیں گے اور نہ ہی پاکستان کے وفاق کو کمزور کرنے کی اجازت دیں گے۔
ترجمان بلاول ہاؤس نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس نظریے اور سیاسی ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں جو پاکستان کے چاروں صوبوں کو جوڑنے کی علامت تھا۔












