قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کی جانب سے 12 مختلف مقامات پر کیے گئے حملے بروقت کارروائی سے ناکام بنا دیے۔ ان آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 108 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جبکہ پولیس اور فورسز کے 10 جوان وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ گزشتہ دو روز میں پنج گور اور شعبان کے علاقوں میں بھی کارروائیوں کے دوران 41 دہشت گرد مارے گئے۔
ذرائع کے مطابق رات گئے دہشت گردوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بزدلانہ حملے کیے، جن کا مؤثر جواب دیتے ہوئے فورسز نے 58 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ گوادر میں دہشت گردوں نے ایک بلوچ مزدور خاندان کے پانچ افراد کو بھی شہید کیا، جن میں ایک خاتون اور تین بچے شامل تھے۔ تمام حملے ناکام بنا دیے گئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب تاحال جاری ہے۔ مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، پسنی اور گوادر میں دہشت گرد حملے ناکام بنانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور شہداء کے بلند درجات اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اپنے شہداء پر فخر ہے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔ وزیر اعظم کے مطابق قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جرات مندانہ کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بہادر جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ ان کے مطابق شہداء قوم کے ہیرو ہیں اور ان کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔









