اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق اس نے دھماکے سے پہلے فائرنگ بھی کی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار کی شناخت ہو چکی ہے، جس نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی اور اس کا تعلق فتنہ الخوارج سے بتایا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور اسلام آباد کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ پمز کے مطابق 105 زخمیوں اور 28 میتوں کو اسپتال لایا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 106 زخمی مختلف اسپتالوں میں منتقل کیے گئے۔ پولی کلینک اسپتال میں خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حملے میں ملوث دہشت گرد کے افغانستان آنے جانے کے شواہد موجود ہیں۔








