افغان پالیسی ناکام، حکومت جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے: مولانا فضل الرحمان

[post-views]
[post-views]

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے افغان اور خارجہ پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان سے تجارت تقریباً ختم ہوچکی ہے، مگر دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گرد سرحد پار سے آ رہے ہیں تو انہیں روکنے یا ختم کرنے میں رکاوٹ کیا ہے۔

راولپنڈی میں جے یو آئی یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کو عوام نے مسترد کیا اور انہیں جعلی قرار دیا گیا۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ کے ذریعے قائم ہے، اسی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام نے اس کا حصہ بننے کے بجائے اپوزیشن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقتدار بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ ایک مرحلہ ہے، جبکہ موجودہ حکومت عوامی تائید کے بجائے سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی، جو جمہوری اقدار کی نفی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج شفاف نہیں تھے اور ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔

فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی جارحیت کو کھلی نسل کشی قرار دیا اور امریکا کو اس کا سرپرست کہا۔ انہوں نے نیتن یاہو کی نام نہاد امن فورمز میں شمولیت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے قاتل کے ساتھ امن کی بات کرنا شرمناک ہے۔

چین سے تعلقات کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جس ملک نے پاکستان پر اعتماد کیا، آج وہ بھی ناراض ہے کیونکہ ترقیاتی منصوبے آگے نہیں بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے افغان پالیسی ناکام رہی ہے، واضح حکمتِ عملی کے فقدان نے سرحدی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں نہ امن ہے، نہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے اور ریاستی رٹ کمزور دکھائی دے رہی ہے، جس کے اثرات پوری قوم پر پڑ رہے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos