اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے زور دیا ہے کہ دہشت گردی اور خودکش حملوں جیسے سنگین مسائل پر بات چیت صرف اور صرف خطے کے ممالک کے درمیان ہونی چاہیے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے اُس پار پشتون اور بلوچ اکثریتی علاقوں میں اس وقت شدید تناؤ پایا جاتا ہے، اور دہشت گردی سے جڑے ان معاملات کا حل پارلیمنٹ کے فورم پر تلاش کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے، اور دہشت گردی کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب افغانستان میں روس کے خلاف عالمی طاقتوں نے مختلف گروہوں کا ساتھ دیا۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جنگ واحد جنگ ہے جس میں تقریباً پوری دنیا شریک رہی، اور اب خدشہ ہے کہ ایران کے معاملے کو جواز بنا کر ہمارے پورے خطے کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ پاکستان، افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک پر مشتمل ایک مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کرے، جس میں افغانستان کو عالمی برادری کے سامنے بٹھا کر اس سے سوالات کیے جائیں اور اسے جواب دہ بنایا جائے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ سلامتی کونسل کے رکن ممالک طاقتور ہیں، انہیں خطے میں امن و استحکام کے لیے اجلاس بلا کر سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے۔








