چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے معالج نے موجودہ میڈیکل رپورٹ کے بارے میں نہ تو اس کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی اسے مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری بنیادی درخواست یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنے ذاتی ڈاکٹر اور اہلِ خانہ سے فوری ملاقات کرائی جائے تاکہ صحت سے متعلق ابہام دور ہو سکے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ہمارا مؤقف آج بھی وہی ہے جو گزشتہ روز تھا۔ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ خالصتاً صحت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم پمز اسپتال گئے تھے جہاں ایک ملاقات بھی ہوئی، اور وہاں جانے کی ہدایت محمود اچکزئی نے دی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنی ہدایت ہے کہ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو اپوزیشن کی قیادت تسلیم کیا جائے، اور وہ جو بھی رہنمائی کریں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے سے متعلق جو میڈیکل رپورٹ سامنے آئی ہے، اس پر حتمی رائے سینئر ڈاکٹرز ہی دے سکتے ہیں۔ گزشتہ روز علاج کے دوران جیل انتظامیہ سے ہماری کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ پارٹی کا معاملہ نہیں بلکہ صرف صحت سے متعلق تشویش ہے، اور ہم چاہتے تھے کہ اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید بتایا کہ پمز جانے کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں ڈاکٹر نہیں ہوں، اس لیے رپورٹ پر طبی رائے نہیں دے سکتا۔ میں کچھ دیر کے لیے باہر اس لیے آیا تھا کہ گھر فون کرکے دوائی منگوا سکوں۔








