ایپس ٹین مقدمے سے متعلق نئے دستاویزات منظرِ عام پر

[post-views]
[post-views]

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مزید دستاویزات جاری کر دیے ہیں جن میں ایک خاتون کے انٹرویوز کی تفصیل شامل ہے۔ اس خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ جب وہ کم عمر تھیں تو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر جنسی حملہ کیا۔ خاتون کے مطابق ان کی ملاقات ٹرمپ سے بدنام زمانہ مالیاتی شخصیت ایپس ٹین نے کرائی تھی، جو بعد ازاں جنسی جرائم کے مقدمات میں سزا یافتہ قرار پائے تھے۔

محکمۂ انصاف کے مطابق یہ دستاویزات پہلے جاری نہیں ہو سکے تھے کیونکہ انہیں غلطی سے دہرائے گئے ریکارڈ کے طور پر نشان زد کر دیا گیا تھا۔ اب انہیں دوبارہ جانچ کے بعد عام کیا گیا ہے۔

جاری کردہ ریکارڈ میں دو ہزار انیس میں ہونے والے متعدد انٹرویوز کا ذکر ہے جن میں خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ جب ان کی عمر تیرہ سے پندرہ برس کے درمیان تھی تو ایپس ٹین اور ٹرمپ دونوں نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ ایپس ٹین انہیں نیویارک یا نیو جرسی لے گیا جہاں ان کی ٹرمپ سے ملاقات کرائی گئی۔ خاتون کے مطابق اس دوران انہوں نے مزاحمت کرتے ہوئے ٹرمپ کو کاٹ بھی لیا تھا۔

خاتون نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ برسوں تک انہیں اور ان کے قریبی افراد کو خاموش رہنے کے لیے دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوتی رہیں۔ دستاویزات کے مطابق دو ہزار انیس میں اس معاملے پر ان سے مزید رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اس معاملے میں کسی بھی غلط کام سے انکار کر چکے ہیں۔

ادھر امریکی سیاست میں ایپس ٹین سے متعلق فائلوں کے اجرا اور ان کی تحقیقات پر بحث جاری ہے، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد اس معاملے پر عوامی توجہ میں کمی آ گئی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos