خدا کے نام پر جنگ: تاریخ کا خطرناک سبق

[post-views]
[post-views]

انسانی تاریخ بار بار یہ ثابت کرتی ہے کہ خدا کے نام پر لڑی جانے والی جنگیں کبھی بھی انسانیت کے لیے اچھا انجام نہیں لاتی۔ ماضی کی صدیوں میں ایسے بے شمار تنازعات ہوئے جنہوں نے معاشروں کو تباہ کیا اور نسلوں تک نفرت اور تقسیم کو زندہ رکھا۔ اسی لیے آج جب ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تو اس رجحان کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایران ایک مذہبی ریاست ہے جہاں سیاسی نظام مذہبی قیادت سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل بھی اپنی قومی شناخت میں مذہبی عنصر کو اہمیت دیتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اگرچہ آئینی طور پر ایک سیکولر ریاست ہے، مگر اس کے اندر ایسے حلقے موجود ہیں جو مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو مذہبی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ جب یہ تینوں قوتیں ایک کھلے تصادم میں آتی ہیں تو یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے کہ جنگ کو مذہبی یا تہذیبی تصادم کے طور پر پیش کیا جائے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی خطرناک ہے کہ جب کسی جنگ کو مذہب یا تہذیب کی لڑائی بنا دیا جائے تو پھر اس کے حل کے راستے محدود ہو جاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات بات چیت سے حل ہو سکتے ہیں، سرحدی تنازعات مذاکرات کے ذریعے طے ہو سکتے ہیں اور معاشی مسائل بھی کسی میز پر بیٹھ کر سلجھائے جا سکتے ہیں۔ مگر جب کسی جنگ کو ایمان یا عقیدے کی جنگ قرار دیا جائے تو دشمنی لامتناہی بن جاتی ہے اور امن کی راہیں بند ہونے لگتی ہیں۔

اس معاملے میں امریکہ پر ایک خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک بڑی طاقت صرف جنگ نہیں لڑتی بلکہ وہ اس جنگ کی کہانی اور اس کی تعبیر بھی متعین کرتی ہے۔ اگر ایسی طاقت اپنی کارروائیوں کو مذہبی رنگ دینے دے تو اس کا پیغام پوری دنیا میں گونجتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طاقت کے ساتھ حکمت اور ذمہ داری بھی ضروری ہے، کیونکہ دنیا کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو تنازعات کو مزید بھڑکانے کے بجائے امن کی طرف لے جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Latest Videos