ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو بحال کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی جائے گی۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ تہران وقتی جنگ بندی کے عوض اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران واشنگٹن کو مستقل امن کے حوالے سے غیر سنجیدہ سمجھتا ہے، اسی لیے عارضی اقدامات کے بدلے اہم اسٹریٹجک فیصلے کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے فوری اور جامع جنگ بندی کی ایک تجویز ایران کو موصول ہوئی ہے، جس پر غور جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا مقررہ مدت کے تحت فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں اور اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط انداز میں پیش رفت کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی اقدام کے اثرات بین الاقوامی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر براہ راست مرتب ہوتے ہیں۔





