اسرائیل نے آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملوں کی تیاری تیز کر دی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تیاری ایک محدود یا علامتی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ایران کے اہم اسٹریٹجک اہداف کو نشانہ بنانے کا امکان شامل ہے۔ ان ذرائع کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، تیل اور گیس سے متعلق تنصیبات، اور ملک کے اہم دفاعی و انتظامی مراکز شامل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکمت عملی کے تحت ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو بھی نشانہ بنانے کے امکانات زیر غور ہیں، تاکہ خطے میں ایران کی کارروائیوں کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔ تاہم اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا باضابطہ اعلان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہُرمُز کے ارد گرد جغرافیائی سیاسی صورتحال پہلے ہی انتہائی حساس اور غیر مستحکم سمجھی جا رہی ہے، اور کسی بھی نئی کارروائی کے خطے میں وسیع تر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔







