ترک صدر رجب طیب اردوان نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو اسرائیل کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے اسرائیلی فیصلوں، خصوصاً فلسطینی قیدیوں سے متعلق پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں تاریخی طور پر ہٹلر دور کی امتیازی پالیسیوں سے تشبیہ دی۔
اردوان نے کہا کہ مخصوص گروہوں کے لیے سزائے موت یا سخت قوانین کا نفاذ ریاستی نظام کو نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ طرزِ حکمرانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور لبنان میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران ہزاروں معصوم شہری، خصوصاً خواتین اور بچے، جان سے گئے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے باوجود بھی حملے جاری رہے۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ خطے میں مسلسل تشدد اور انسانی جانوں کے ضیاع نے سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، اور اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو ترکی اپنے مؤقف کے مطابق سخت ردعمل دے سکتا ہے۔







