ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا ہے کہ خلیج فارس کا مستقبل امریکا کی موجودگی کے بغیر زیادہ مستحکم اور روشن ہوگا، جبکہ تہران اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کا مستقبل باہم جڑا ہوا ہے اور خطے میں بیرونی طاقتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جس کے تحت حالیہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے بعد ایران اس اہم سمندری راستے کے لیے نئے انتظامی اور سکیورٹی اصول وضع کرے گا۔
خامنہ ای کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں ایک نیا سیاسی اور سکیورٹی مرحلہ تشکیل پا رہا ہے، جو علاقائی توازن اور پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنے گا۔
انہوں نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان آبی گزرگاہوں پر کسی بھی رکاوٹ کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ان راستوں کو امن، ترقی اور معاشی خوشحالی کے لیے مؤثر بنایا جائے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ خلیج فارس نہ صرف تہذیبی شناخت کا حصہ ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے، جس کی حفاظت خطے کے تمام ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مغربی طاقتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں یورپی اور امریکی مداخلتوں نے خطے میں بدامنی کو فروغ دیا، جبکہ موجودہ کشیدگی بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی طاقتوں کے اڈے نہ صرف غیر مؤثر ہیں بلکہ اپنی حفاظت کے بھی قابل نہیں۔








