امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بعد کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایک بڑا طیارہ بردار بحری جہاز کیوبا کے قریب تعینات کر سکتا ہے۔
فلوریڈا میں خطاب کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحری طاقت کی موجودگی کیوبا پر دباؤ بڑھائے گی اور ہوانا حکومت کو پسپائی پر مجبور کر سکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ اقدامات ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں کے تسلسل کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے کیوبا کی حکومت، سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ افراد پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی وزارت خزانہ کے مطابق پابندیوں کا مقصد بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث عناصر کو نشانہ بنانا ہے۔
کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل اور وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے امریکی اقدامات کو جبر اور اجتماعی سزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیوبا دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔








