ادارتی تجزیہ
پاکستان اپنے مالیاتی نظام کو تیزی سے ڈیجیٹل بنا رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ضروری حفاظتی انتظامات اسی رفتار سے مضبوط نہیں کیے جا رہے۔ یہ فرق صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکا ہے، جبکہ حکومت اب تک اس معاملے کو مطلوبہ اہمیت کے ساتھ نہیں دیکھ سکی۔
حال ہی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی بینکوں کے صدور، اعلیٰ انتظامی افسران اور معلوماتی تحفظ کے ماہرین کے ساتھ ملاقات ایک اہم پیش رفت ضرور تھی، مگر صرف اجلاس منعقد کرنا کافی نہیں۔ پاکستان کے مالیاتی شعبے کو ایسے خطرات کا سامنا ہے جو سفارشات یا طویل جائزوں کا انتظار نہیں کرتے۔ مصنوعی ذہانت اب ایسے عناصر کے ہاتھ میں بھی پہنچ چکی ہے جو مالیاتی نظام کی کمزوریاں تلاش کر کے جدید نوعیت کے سائبر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خطرات صرف خدشات نہیں بلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔
بھارت اور جاپان جیسے ممالک، جہاں ڈیجیٹل نظام پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں، وہاں بھی ادائیگی کے نظام اور مالیاتی نیٹ ورکس مسلسل سائبر حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ڈیجیٹل بینکاری اور آن لائن ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے نظام کے باعث اسی نوعیت کے خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
اصل مسئلہ ادارہ جاتی کمزوری کا ہے۔ پاکستان نے ڈیجیٹل مالیاتی ڈھانچہ تو تیار کیا، لیکن اس کے تحفظ کے لیے مضبوط حکومتی اور انتظامی نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ سائبر سکیورٹی کو ایک قومی ترجیح بنانے کے بجائے صرف تکنیکی شعبے کا معاملہ سمجھا گیا۔ ریگولیٹری ادارے، مالیاتی تنظیمیں اور حکومتی محکمے الگ الگ انداز میں کام کرتے رہے، حالانکہ موجودہ حالات میں مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
اسٹیٹ بینک کی “سائبر شیلڈ” حکمت عملی مثبت قدم ضرور ہے، لیکن صرف پالیسی دستاویزات کافی نہیں ہوتیں۔ ضروری ہے کہ واضح اور لازمی حفاظتی معیار مقرر کیے جائیں، خطرات سے متعلق معلومات فوری طور پر اداروں کے درمیان شیئر کی جائیں، اور ہر مالیاتی ادارے کی اعلیٰ انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے۔ خاص طور پر بینکوں کے پرانے کمپیوٹر نظام آج بھی پورے مالیاتی ڈھانچے کی سب سے بڑی کمزوریوں میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتے جب تک اس کی بنیادی مالیاتی ساخت محفوظ نہ ہو۔ اگر یہ نظام سائبر حملوں، رکاوٹوں یا بلیک میلنگ کا شکار ہو گیا تو اس کے اثرات براہِ راست عوام اور کاروباری شعبے پر پڑیں گے۔ سائبر تحفظ ترقی کا اضافی حصہ نہیں بلکہ اس کی بنیادی شرط ہے۔ حکومت کو اب ارادوں اور بیانات سے آگے بڑھ کر فوری عملی اقدامات کرنا ہوں گے، اس سے پہلے کہ غفلت کی قیمت عام صارفین اور کاروبار کو ادا کرنا پڑے۔









