ادارتی تجزیہ
پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال اپریل 2026 میں ایک تیز اور تشویشناک موڑ اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جو وزارتِ خزانہ کی 8 سے 9 فیصد کی پیشگوئی سے تقریباً دو فیصد زیادہ ہے۔ یہ معمولی فرق نہیں بلکہ حکومتی اندازوں کی کمزوری اور اعتماد کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ماہ قبل کنزیومر پرائس انڈیکس 7.3 فیصد تھا، جبکہ اپریل 2025 میں یہ شرح صرف 0.3 فیصد تھی۔ اس طرح دوبارہ دو ہندسی مہنگائی کی طرف واپسی نہایت تیزی سے ہوئی ہے۔ ماہانہ بنیاد پر 2.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ قیمتوں کا دباؤ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔ شہری علاقوں میں مہنگائی 11.1 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 10.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا کوئی بھی طبقہ اس دباؤ سے محفوظ نہیں رہا۔
وزارتِ خزانہ نے مہنگائی کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی کشیدگی سے پیدا ہونے والی سپلائی چین کی مشکلات کو قرار دیا تھا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ وضاحت مکمل نہیں ہے۔ کم بیس لائن اثر پہلے سے معلوم تھا، جبکہ خوراک، رہائش، ایندھن اور ایل پی جی کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ رہی تھیں۔ اس تناظر میں 8 سے 9 فیصد کی پیشگوئی یا تو تجزیاتی کمزوری تھی یا ضرورت سے زیادہ پر امید اندازہ، جو دونوں صورتوں میں اطمینان بخش نہیں۔
اس صورتحال کے جواب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی میں سختی کرتے ہوئے شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کر کے اسے 11.5 فیصد کر دیا ہے، جو تین سال بعد پہلا بڑا اضافہ ہے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ مہنگائی اب معمولی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک ساختی مسئلہ بن چکی ہے جس کے لیے مالیاتی سخت اقدامات ضروری ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ اگر حکومتی معاشی تخمینے وقتی استحکام کے دوران حد سے زیادہ پر امید ہو جائیں تو اپریل کے یہ اعداد و شمار ایک واضح یاد دہانی ہیں کہ معیشت کی درست سمت کے لیے سنجیدہ، حقیقت پسند اور محتاط منصوبہ بندی ناگزیر ہے، کیونکہ ہر غلط اندازے کی قیمت عام شہری مہنگائی کی صورت میں چکاتے ہیں۔









